بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1442ھ- 24 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

امام کے پیچھے مقتدی کی قراءت کا حکم


سوال

اگر امام کے پیچھے مقتدی قراءت کرے تو کیا حکم ہے؟

جواب

مقتدی کے لیے کسی بھی نماز  میں (خواہ جہری ہو یا سری) امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنا درست نہیں ہے،  ارشادِ خداوندی ہے:

﴿وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ﴾( الاعراف:۲۰۴)

ترجمہ: اور جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو کان لگاکر سنو اور خاموش رہو؛ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

 بہت سی تفسیری روایات سے یہ پتا چلتا ہے کہ اس آیت کا تعلق نماز ہی سے ہے؛ چناں چہ حضرت مجاہدؒ، حضرت عبد اللہ بن مغفل، حضرت ابوالعالیہ وغیرہم حضرات سے یہ صراحتاً منقول ہے۔ نیز اس  معنی کی تائید متعدد احادیثِ شریفہ سے بھی ہوتی ہے، جن میں سے چند  یہ ہیں:

1۔ نبی اکرم علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: ’’جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو‘‘۔

اس مضمون کی حدیثیں حضرت ابوموسیٰ اشعری، حضرت ابوہریرہ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں۔

2۔ نبی اکرم علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: ’’جس کا کوئی امام ہو تو امام کی قرأت مقتدی کے لیے بھی قرأت کے درجہ میں ہے‘‘۔

یعنی امام کا قرأت کرنا مقتدی کی قرأت کی طرف سے بھی کافی ہے۔اس مضمون کی روایات حضرت جابر، حضرت ابوہریرہ، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت انس بن مالک، حضرت نواس بن سمعان، حضرت علی اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں، اس لیے امام کے پیچھے سورہ فاتحہ  کی قرات بھی درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201201195

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں