بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ایمان، طلاق، نکاح کے بارے میں وساوس کا آنا


سوال

1-  مجھے  2 سال سے بہت وسوسےآتے ہیں،کبھی نکاح کے ،کبھی طلاق ،کبھی حرمت مصاہرت ،کبھی ایمان ، میں جان بوجھ کر جملے بولتی ہوں، شادی سے پہلے لوگوں سے بہت سے غلطیاں ہو جاتی ہیں، تو مجھ سے بھی بہت ہوئی ہیں،اب جب میری شادی ہو چکی ہے تو مجھے لگتا ہے اگر مجھ سے ایسی کوئی غلطی ہو گئی ہو جیسے ایمان پر فرق پڑتا ہے تو کیا میرا نکاح درست نہ ہوا؟ 

2- میں آپ کی ویب سائٹ پر جو بھی مسئلہ پڑھ لیتی ہو میرے ذہن میں بیٹھ جاتا ہے اور مجھے لگتا ہے میرے ایمان اور نکاح پر فرق پڑھ گیا،مہینہ پہلے ایک مسئلہ پڑھا جس میں لکھا تھا سورہ بقرہ کی آیات  124 میں اگر پیش کو زبر اور زبر کو پیش میں پڑھ لیا تو ایمان پر فرق پڑتا ہے، اُس کے بعد میرے ذہن میں ویسے ہی چلنے لگا، دونوں طرح سے، پھر میں نے گوگل کرکے دونوں طرح پڑھا،میرا ذھن دونوں طرف جارہا تھا،میں نے زبان سے کچھ نہیں پڑھا،کیا میرانکاح ٹوٹ  گیا؟

جواب

واضح رہے کہ غیر اختیاری وسوسہ آنا اور  اسے برا سمجھنا ایمان کی علامت ہے، حضرت ابوہریرہ   رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے کچھ لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ ہم اپنے دلوں میں کچھ خیالات ایسے پاتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان کو بیان نہیں کر سکتا، آپ ﷺ نے فرمایا کیا واقعی تم اسی طرح پاتے ہو؟ (یعنی گناہ سمجھتے ہو) صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا یہ تو واضح ایمان ہے۔

لہذا ان خیالات اور وسوسوں سے پریشان نہ ہوں ، اور ان کا علاج یہ ہے کہ ان کی طرف بالکل دھیان نہ دیا جائے،طلاق اور نکاح کے بارے میں خیال آنے سے کچھ نہیں ہوتا،جب تک وہ الفاظ زبان سے ادا نہ کیے جائیں،ذکر اللہ کے اہتمام کیا جائے،ان خیالات میں اپنے آپ کو  ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ اللہ کو راضی کرنے کی فکر کی جائے،سائلہ  کا اگر قرآن کی آیت کو پڑھتے ہوئے خیال غلط معنی کی طرف جاتا ہے تو اس سے نکاح پر فرق نہیں پڑتا،جب تک زبان سے اس آیت کو ادا نہ کرے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے :

"وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: جاء ناس من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى النبي صلى الله عليه وسلم فسألوه: إنا نجد في أنفسنا ما ‌يتعاظم ‌أحدنا أن يتكلم به. قال: «أو قد وجدتموه» قالوا: نعم. قال: «ذاك صريح الإيمان» . رواه مسلم."

(کتاب الایمان ،باب الوسوسۃ،ج:۱،ص:۲۶،المکتب الاسلامی)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144406100952

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں