بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

اجتماعی قربانی میں حصے متعین کرنا ضروری ہیں


سوال

  بسا اوقات انتظامیہ حصے متعین نہیں کرتی بس جانوروں کو ذبح کر دیا جاتا ہے اور پھر جو حصہ دار اس وقت موجود ہوتا ہے اسے وزن کر کے گوشت دے دیا جاتا ہے جبکہ حصہ دار اس پر راضی بھی ہوتے ہیں۔ تو کیا ایسی صورت میں قربانی درست ہوگی یا پھر حصے متعین کرنا اور پھر اسی حصہ دار کو گوشت دینا ضروری ہے ؟ بسا اوقات کچھ حصہ دار پہلے آ جاتے ہیں اور کچھ دیر سے۔ اس صورت میں دو خرابیاں درپیش ہوتی ہیں پہلی تو یہ کہ جس کا حصہ بعد والے جانور میں ہوتا ہے وہ پہلے آ کے سر پہ کھڑا رہتا ہے اور انتظار کی مشقت برداشت کرتا ہے، دوسری خرابی یہ کہ جس کا حصہ تیار پڑا ہوتا ہے وہ نا آیا ہو تو گوشت خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے لہذا ان خرابیوں سے بچنے کیلئے جو حصہ دار موجود ہوتا ہے اسے گوشت دے دیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے راہنمائی فرما دیں۔ 

جواب

1:صورت مسئولہ میں  اجتماعی قربا نی میں  ہرہر جانورکو شرکاء میں سے سات ساتھ افراد کے لئے  معین کرنا ضروری ہے ،ہر جانور ذبح کرنے سے قبل اس میں شریک  تمام شرکاء کی تعیین کر کے پھر ذبح کرنے کامعمول رکھا جائے ،اور ہر حصہ دار کو اس کے جانور کاحصہ دیا جائے،ایک کے جانور کاحصہ   دوسرے آدمی کو نہیں دیا جائے ۔

2:ہر شریک کو اس کاحصہ وزن کر کے برابر دینا شرعا لازم ہے ،منتظمین کے لیے محض اندازے سے تقسیم کرنے کی اجازت نہیں ہے ،جس گائے میں جو افراد شریک ہوں اس گائے کا گوشت ان ہی  حصہ داروں  کے درمیان برابر تقسیم کرنا شرعا ضروری ہے ،ایک گائے کے متعین حصہ داروں کے علاوہ دوسری گائے کے شرکاء کو  اس گائے کا گوشت دینا جائز نہیں ہے ،کیوں کے ہر گائے کے متعین حصہ دار اپنے اپنے حصہ کے مالک ہو تے ہیں ،اور مالک کی اجازت کے بغیر اس کےحصہ کاگوشت  کسی اور کو دینا(خواہ وزن کر کے دیا جائے یا وزن کے بغیر دیا جائے )شرعا جائز نہیں ہے ،لہذا انتظامیہ کو چاہیے کہ حصہ کی  وصولی کے لیے متعین وقت دے دے ،تاکہ کسی کو انتظار نہ کرنا پڑے ،اور اگر وقت مقررہ سے پہلے کوئی شریک گوشت وصول کرنے آجائے تو اسے انتظار کرنے دیا جائے یا وقت مقررہ پر دوبارہ آنے کاکہہ دیا جائے ،ورنہ پہلے سےحصہ داروں  سے اجازت لے لی جائے  کہ وقت مقررہ پر نہ  آنے کی صورت میں گوشت  کی خرابی سے بچنے کے لیے لوگوں میں تقسیم کردیا جائے گا ۔

بدائع الصنائع ميں هے :

"(ومنها) أن تكون ‌نية ‌الأضحية مقارنة للتضحية كما في باب الصلاة؛ لأن النية معتبرة في الأصل فلا يسقط اعتبار القران إلا لضرورة كما في باب الصوم؛ لتعذر قران النية لوقت الشروع لما فيه من الحرج".

(كتاب التضحية،72/5،دار الكتب العلمية)

المحيط البرهاني ميں هے :

"في ‌أضاحي ‌الزعفراني: اشترى سبعة نفر سبع شياه بينهم أن يضحوا بها بينهم، ولم يسم لكل واحد منهم شاة بعينها فضحوا بها؛ كذلك فالقياس: أن لا يجوز.

وفي الاستحسان: يجوز؛ فقوله اشترى سبعة نفر سبع شياه بينهم؛ يحتمل شراء كل شاة بينهم، ويحتمل شراء سبع شياه على أن يكون كل واحد منهم شاة، ولكن لا يعينها، فإن كان المراد هو الثاني، فما ذكر من الجواب باتفاق الروايات؛ لأن كل واحد منهم يصير مضحياً بشاة كاملة، وإن كان المراد هو الأول فما ذكر من الجواب على إحدى الروايتين، فإن الغنم إذا كانت بين رجلين ضحيا بها ذكر في بعض المواضع: أنه لا يجوز ".

(کتاب الاضحیۃ،100/6،دار الكتب العلمية)

فتاوی شامي ميں هے :

"ويقسم اللحم وزنالا جزافا إلا إذا ضم معه الأكارع أو الجلد)صرفا للجنس لخلاف جنسه.(قوله ويقسم اللحم) انظر هل هذه القسمة متعينة أو لا، حتى لو اشترى لنفسه ولزوجته وأولاده الكبار بدنة ولم يقسموها تجزيهم أو لا، والظاهر أنها لا تشترط لأن المقصود منها الإراقة وقد حصلت. وفي فتاوى الخلاصة والفيض: تعليق القسمة على إرادتهم، وهو يؤيد ما سبق غير أنه إذا كان فيهم فقير والباقي أغنياء يتعين عليه أخذ نصيبه ليتصدق به اهـ ط. وحاصله أن المراد بيان شرط القسمة إن فعلت لا أنها شرط، لكن في استثنائه الفقير نظر إذ لا يتعين عليه التصدق كما يأتي، نعم الناذر يتعين عليه فافهم (قوله لا جزافا) لأن القسمة فيها معنى المبادلة، ولو حلل بعضهم بعضا قال في البدائع: أما عدم جواز القسمة مجازفة فلأن فيها معنى التمليك واللحم من أموال الربا فلا يجوز تمليكه مجازفةوأما عدم جواز التحليل فلأن الربا لا يحتمل الحل بالتحليل، ولأنه في معنى الهبة وهبة المشاع فيما يحتمل القسمة لا تصح اهـ وبه ظهر أن عدم الجواز بمعنى أنه لا يصح ولا يحل لفساد المبادلة خلافا لما بحثه في الشرنبلاليةمن أنه فيه بمعنى لا يصح ولا حرمة فيه". 

(کتاب الاضحیۃ،308/6،سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144402100035

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں