بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 محرم 1446ھ 24 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

اجتماعی قربانی کے جانور میں شریک تمام شرکاء کے نام دینا ضروری نہیں۔


سوال

کیا اجتماعی قربانی میں حصہ لینے کےلئے عورتوں کا نام دینا ضروری ہے ؟ کیا میں اس طرح نام دے سکتا ہوں ؟ اہلیہ عمیر ، والدہ عمیر ، ہمشیرہ عمیر ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اجتماعی قربانی میں حصہ لینے کے لیے خواتین کا نام دینا ضروری نہیں ہے، اہلیۂ فلاں،والدۂ فلاں، بنتِ فلاں وغیرہ کے ساتھ حصہ متعین کیا جاسکتا ہے،یا گھر کا کوئی ایک مرد اپنے گھر والوں کی طرف سے وکیل بن کر سارے حصےظاہراً اپنے نام سے منتخب کرواکے بھی سب گھر والوں کی طرف سے قربانی کرسکتا ہے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"عن جابر رضي الله عنه قال: ذبح النبي صلى الله عليه وسلم يوم الذبح كبشين أقرنين، أملحين، موجوءين، فلما وجههما قال: إني وجهت وجهيللذي فطر السماوات والأرض على ملة إبراهيم حنيفا، وما أنا من المشركين، إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له، وبذلك أمرت وأنا من المسلمين، اللهم منك ولك، عن محمد وأمته، بسم الله، والله أكبر، ثم ذبح".

"(عن محمد) أي: صادرة عنه. (وأمته) أي: العاجزين عن متابعته في سنة أضحيته، وهو يحتمل التخصيص بأهل زمانه، والتعميم المناسب لشمول إحسانه، والأول يحتمل الأحياء والأموات أو الأخير منهما، ثم المشاركة إما محمولة على الثواب، وإما على الحقيقة، فيكون من خصوصية ذلك الجناب، والأظهر أن يكون أحدهما عن ذاته الشريفة، والثاني عن أمته الضعيفة".

(باب في الأضحية، ج:3، ص:1082، ط:دار الکتب العلمیة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولو ضحى ببدنة عن نفسه وعرسه وأولاده ليس هذا في ظاهر الرواية وقال الحسن بن زياد في كتاب الأضحية: إن كان أولاده صغارا جاز عنه وعنهم جميعا في قول أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى ، وإن كانوا كبارا إن فعل بأمرهم جاز عن الكل في قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى".

(کتاب الأضحية،الباب السابع في التضحية عن الغير، ج:5، ص:302، ط:دار الفکر۔ بیروت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144411101073

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں