بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 محرم 1446ھ 21 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

اجتماعی قربانی میں سب شرکاء کا نام دینا ضروری نہیں ہے


سوال

اجتماعی قربانی میں حصہ لینے کےلیے کیا عورتوں کا نام دینا ضروری ہے ؟ میں اس طرح نام دے سکتا ہوں ، اہلیہ عمیر ، والدہ عمیر ، ہمشیرہ عمیر؟

جواب

واضح رہے کہ قربانی کرتے ہوئے قربانی کرنے والےکا یا اس ميں شريك ديگر افرادكا نام لینا ضروری نہیں ہے،بلکہ ان کی طرف سےنیت بھی کافی ہے،لہذاصورتِ مسئولہ میں اجتماعی قربانی میں حصہ لینے کے لیے خواتین کا نام دینا لازم نہیں،صرف اہلیۂ فلاں،والدۂ فلاں وغیرہ کے ساتھ حصہ متعین کیا جاسکتا ہے،بلکہ گھر کا کوئی ایک مرد اپنے گھر والوں کی نيت كركےسارے حصےظاہراً اپنے ہی نام سے منتخب کرواکے بھی  قربانی کرواسکتا ہے۔

"مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح"میں ہے:

"عن جابر رضي الله عنه قال: ذبح النبي صلى الله عليه وسلم يوم الذبح كبشين أقرنين، أملحين، موجوءين، فلما وجههما قال: إني وجهت وجهي للذي فطر السماوات والأرض على ملة إبراهيم حنيفا، وما أنا من المشركين، إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له، وبذلك أمرت وأنا من المسلمين، اللهم منك ولك، عن محمد وأمته، بسم الله، والله أكبر، ثم ذبح.

"(عن محمد) أي: صادرة عنه. (وأمته) أي: العاجزين عن متابعته في سنة أضحيته، وهو يحتمل التخصيص بأهل زمانه، والتعميم المناسب لشمول إحسانه، والأول يحتمل الأحياء والأموات أو الأخير منهما، ثم المشاركة إما محمولة على الثواب، وإما على الحقيقة، فيكون من خصوصية ذلك الجناب، والأظهر أن يكون أحدهما عن ذاته الشريفة، والثاني عن أمته الضعيفة."

(ص:١٠٨٢،ج:٣،باب في الأضحية،ط:دار الکتب العلمیة)

"ألفتاوي الهندية"میں ہے: 

"ولو ضحى ببدنة عن نفسه وعرسه وأولاده ليس هذا في ظاهر الرواية وقال الحسن بن زياد في كتاب الأضحية: إن كان أولاده صغارا جاز عنه وعنهم جميعا في قول أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى ، وإن كانوا كبارا إن فعل بأمرهم جاز عن الكل في قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى."

(ص:٣٠٢،ج:٥،کتاب الأضحية،الباب السابع في التضحية عن الغير،ط:دار الفکر،بیروت)

"المبسوط للسرخسي"میں ہے:

"(قال:): ولا أحب أن يذكر مع اسم الله تعالى غيره نحو قوله اللهم ‌تقبل ‌من ‌فلان لقوله صلى الله عليه وسلم :جردوا التسمية يعني ذكر اسم الله تعالى عند الذبح ويكفي في هذا أن ينويه بقلبه أو يذكره قبل ذكر التسمية ثم يقول بسم الله، والله أكبر وينحر."

(ص:١٤٦،ج:٤،کتاب المناسک،باب النذر،ط:دار المعرفة)

’’کفایت المفتی‘‘ میں ایک سوال کے جواب میں ہے:

’’شرکاء کے نام قربانی کو ذبح کرتے وقت پکارنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے،ہاں ذبح کرنے والا نیت میں ان سب کی جانب سے ذبح کرنے کا خیال رکھے اور اتفاقا پکار دیے جائیں اور مقصود اعلام ہو تو مضائقہ نہیں لیکن پکارنے کو ضروری یا اضحیہ میں لازم سمجھنا بے اصل ہے۔‘‘

(ص:١٨٧،ج:٨،کتاب الاضحیہ والذبیحہ)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144411101998

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں