بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

اجتماعی قربانی میں شریک ہونا


سوال

اگر کوئی شخص صاحب نصاب ہے اور وہ شخص اجتماعی قربانی میں ایک حصہ لے لے ،تو کیا اس کی طرف سے قربانی ادا ہوجائے گی؟

جواب

جو شخص صاحب نصاب ہو وہ چاہے تو پورا جانور خرید کر قربان کرے یا کسی بڑے جانور (گائے، اونٹ وغیرہ) میں شریک ہوجائے،دونوں صورتوں میں قربانی ہوجاتی ہے، لہذا اجتماعی قربانی میں شریک ہونے سے بھی قربانی کا وجوب ادا ہوجائے گا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما قدره فلا يجوز الشاة والمعز إلا عن واحد وإن كانت عظيمة سمينة تساوي شاتين مما يجوز أن يضحى بهما؛ لأن القياس في الإبل والبقر أن لا يجوز فيهما الاشتراك؛ لأن القربة في هذا الباب إراقة الدم وأنها لا تحتمل التجزئة؛ لأنها ذبح واحد وإنما عرفنا جواز ذلك بالخبر فبقي الأمر في الغنم على أصل القياس ....روي عن رسول الله ﷺ «البدنة تجزي عن سبعة والبقرة تجزي عن سبعة» وعن جابر رضی اللہ عنه قال: «نحرنا مع رسول الله ﷺ البدنة عن سبعة والبقرة عن سبعة» ولأن القياس يأبى جوازها عن أكثر من واحد لما ذكرنا أن القربة في الذبح وأنه فعل واحد لا يتجزأ؛ لكنا تركنا القياس بالخبر المقتضي للجواز عن سبعة مطلقا فيعمل بالقياس فيما وراءه؛ لأن البقرة بمنزلة سبع شياه."

(كتاب التضحية، فصل في محل إقامة الواجب في الأضحية، ج: 5، ص70 - ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144511102037

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں