بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

اجتماعی قربانی میں منافع رکھنے کا حکم


سوال

کوئی آدمی لوگوں کی سہولت اور اپنے کچھ فائدے کے لیے لوگوں کی قربانی کرانے کے لیے یہ اعلان لگاتا ہے کہ ہمارے یہاں قربانی کرنے کی سہولت ہے اور قیمت کے اعتبار سے مختلف قسم کے جانور کے حصوں کے لیے الگ الگ ریٹ لگا کر اعلان کرتا ہے، مثلاً ایک حصہ دوہزار، پچیس سو، تین ہزار وغیرہ اور اس آدمی کی نیت یہ ہوتی ہے کہ میں یہ جانور خرید کر مالک بننے کے بعد قربانی کرنے والوں کے ہاتھ کچھ نفع لے کر فروخت کررہا ہوں، نفع اپنی کچھ محنت کے بدلے میں لے رہا ہوں، تو کیا اس طرح نفع لینا جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر یہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہو کہ اجتماعی قربانی کا اہتمام کرنے والے  قربانی کا  جانور خود  خرید لیں، اور اس پر خود یا اپنے وکیل کے ذریعے قبضہ کرلیں، اس کے بعد جو شخص  اجتماعی قربانی میں حصہ لینا چاہے اس  کو  مکمل جانور یا مطلوبہ حصے (مثلاً ایک، دو  یا تین  حصے وغیرہ)  اپنا منافع رکھ کرفروخت کردیں، اجتماعی قربانی میں شریک ہونے  والے شخص کو بتادیں یا رسید پر لکھ دیں کہ فی حصہ اتنے میں فروخت کیا جاتا ہے،    پھر ان کی طرف سے نائب بن کر ان کی اجازت سے  قربانی کر لیں  اور    قربانی کے بعد خریدار کو  گائے میں سے اس کے حصہ کے بقدر گوشت  دے دیں یا وہ جس کو دینے کے لئے کہیں اس کو دے دیں تو یہ صورت بھی جائز ہے اور اس صورت میں حاصل شدہ منافع بھی حلال ہے۔

اسی طرح اگر  اجتماعی قربانی کرنے والوں کے پاس فی الحال جانور خریدنے کا انتظام نہیں اور وہ  جانور کے بیوپاریوں سے قیمت طے کرلیں اور ان سے وعدہ بیع کرلیں، پھر  اجتماعی قربانی میں حصہ لینے والوں سے وعدہ بیع کرلیں کہ ہم آپ کو ایک حصہ اتنے میں دیں گے (اور اس میں اپنا منافع رکھ لیں جیسا کہ پہلی صورت میں تھا) اور وعدہ بیع کی مد میں پیشگی ان سے رقم لے لیں، پھر آخر میں جانور خرید لیں  اور جانور خریدنے کے بعد  ان کا حصہ ان کی طرف سے ذبح کر کے حصہ داروں کو ان کے حصہ کے بقدر دے دیں تو یہ صورت بھی جائز ہے اور اس صورت میں بھی منافع رکھنا جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ولو أعطاه الدراهم، وجعل يأخذ منه كل يوم خمسة أمنان ولم يقل في الابتداء اشتريت منك يجوز وهذا حلال وإن كان نيته وقت الدفع الشراء؛ لأنه بمجرد النية لا ينعقد البيع، وإنما ينعقد البيع الآن بالتعاطي والآن المبيع معلوم فينعقد البيع صحيحا. قلت: ووجهه أن ثمن الخبز معلوم فإذا انعقد بيعا بالتعاطي وقت الأخذ مع دفع الثمن قبله، فكذا إذا تأخر دفع الثمن بالأولى".

(4/ 516، کتاب البیوع، مطلب البیع بالتعاطی،  ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144311101020

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں