بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1444ھ 01 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

اجتماعی قربانی میں حرام آمدنی والے کا شریک ہونا


سوال

1.اگر گائے کے سات حصہ داروں میں سے کسی ایک حصہ دار کی آمدنی حرام ہے تو کیا باقی حصہ داروں کی قربانی ہو جائے گی یا نہیں ؟

2.  آج کل اجتماعی قربانیاں مختلف تنظیموں اور مدارس کے تحت ہورہی ہوتی ہیں۔ جس میں لوگ مقرر شدہ رقم جمع کرا کر گائے میں حصہ دار بن جاتے ہیں۔ عام طور پر یہ حصہ دار ایک دوسرے کو نہیں جانتے ہیں اور نہ ہی ان کو ایک دوسرے کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی آمدنی کے ذرائع کیا ہیں اور کیا وہ حلال بھی ہیں یا نہیں اور دیکھا گیا ہے کہ فلاحی تنظیمیں یا مدارس جو اجتماعی قربانی کا انتظام کررہے ہوتے ہیں وہ بھی اس قسم کی معلومات لینے یا تھوڑی تحقیق کرلینے سے گریزاں ہوتے ہیں یا نہیں کرتے۔ ان کا مطمع نظر یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ حصوں کےرقم جمع کرائیں ۔

سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں جب انفرادی طور پر آپ کو معلوم نہ ہو کہ قربانی کے بقیہ حصہ داروں کی آمدنی حلال ذرائع کی ہے یا نہیں،  کیا اجتماعی قربانی میں حصہ رکھنے سے آپ کی قربانی ہو جائے گی یا نہیں؟ 

جواب

1. اگر اجتماعی قربانی میں کسی ایک  شریک  کی آمدنی حرام  کی ہو  اورواقعتًا  اس نے قربانی  میں حرام مال سے ہی شرکت کی ہو  تو ایسی صورت میں باقی شرکاء کی قربانی بھی نہیں ہوگی۔

2.مسلمانوں کو حکم یہ ہے کہ دیگر مسلمانوں کے بارے میں  نیک  گمان  رکھا جائے کہ ان کی آمدنی حلال ہی ہے ،اس لیے کہ عام طور پر مسلمان حرام نہیں کماتا؛  لہٰذا جب تک یقینی طور پر معلوم نہ ہو  کہ کسی کا حصہ دار حرام آمدن والا ہے، اجتماعی قربانی جائز ہوگی۔  البتہ اگر قرائن  سے کسی  کے بارے میں یہ معلوم ہوجائے  کہ اس کی کل یا اکثر آمدنی  حرام ہے  تو  پھر اسے قربانی  کے جانور میں  شریک نہ کیاجائے۔ اس کے لیے اجتماعی قربانی  کرنے والے اداروں کو  لکھ کر لگا دینا چاہیے کہ حرام آمدنی والے احباب زحمت نہ فرمائیں،تاکہ دوسرے لوگوں کی قربانی خراب نہ ہو۔

الفتاوى الهندية (5/ 304):

" وإن كان كل واحد منهم صبياً أو كان شريك السبع من يريد اللحم أو كان نصرانياً ونحو ذلك لايجوز للآخرين أيضاً، كذا في السراجية. ولو كان أحد الشركاء ذمياً كتابياً أو غير كتابي وهو يريد اللحم أو يريد القربة في دينه لم يجزئهم عندنا؛ لأن الكافر لايتحقق منه القربة، فكانت نيته ملحقةً بالعدم، فكأنه يريد اللحم، والمسلم لو أراد اللحم لايجوز عندنا".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144210200759

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں