بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 رجب 1444ھ 31 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

تبلیغی اجتماع کی کامیابی کے لیے روزے رکھنے کا حکم


سوال

تبلیغی اجتماع کی عافیت کے لیے خواتین روزے رکھتی ہیں، ایک شخص اس کو بدعت بتلاتا ہے، شرعاً ان روزوں کی کیا حیثیت ہے؟ کیا واقعۃً یہ بدعت ہے؟

جواب

واضح رہے کہ   بدعت کہتے ہیں کہ  ہر وہ کام جس کی کوئی  شرعی اصل، مثال یا نظیر  کتاب و سنت اور آثارِ صحابہ میں موجود نہ ہو ، قرونِ اولیٰ ثلاثہ میں اس پر عمل کے امکان کے باوجود صحابہ وتابعین وتبع تابعین نے اسے اختیار نہ کیا ہو،   اور اس کو دین میں ثابت شدہ  اور ثواب کا کام سمجھ کر کیا جائے، یا کسی جائز و مستحب کام کو  لازم سمجھ کر کیا جائے اور نہ کرنے والے کو موردِ طعن ٹھہرایا جائے ۔

حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمہ اللہ علیہ بدعت کا اِصطلاحی مفہوم ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :

"المحدثه" والمراد بها ما أحدث، وليس له أصلٌ في الشرع ويسمي في عرف الشرع ’’بدعة‘‘، وما کان له أصل يدل عليه الشرع فليس ببدعة، فالبدعة في عرف الشرع مذمومة بخلاف اللّغة : فإن کل شيء أحدث علي غير مثال يسمي بدعة، سواء کان محمودًا أو مذمومًا".

’’محدثہ امور سے مراد ایسے نئے کام کا ایجاد کرنا ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل موجود نہ ہو، اسی محدثہ کو اِصطلاحِ شرع میں ’’بدعت‘‘ کہتے ہیں، لہٰذا ایسے کسی کام کو بدعت نہیں کہا جائے گا جس کی اصل شریعت میں موجود ہو یا وہ اس پر دلالت کرے۔ شرعی اعتبار سے بدعت فقط بدعتِ مذمومہ کو کہتے ہیں لغوی بدعت کو نہیں۔ پس ہر وہ کام جو مثالِ سابق کے بغیر ایجاد کیا جائے اسے بدعت کہتے ہیں چاہے وہ بدعتِ حسنہ ہو یا بدعتِ سیئہ۔‘‘

( ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، 13 : 253)

اب جو خواتین تبلیغی اجتماع کے لیے روزہ رکھتی ہیں اگر اس موقع پر  روزوں کے رکھنے کو دین کا لازم حصہ سمجھ کر رکھتی ہوں اور نہ رکھنے والوں پر طعن کرتی ہوں تو واقعۃً یہ بدعت کہلائے گا اور اگر ایسا نہ ہو بلکہ اس لیے روزہ رکھتی ہوں کہ روزے رکھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور اجتماع کے مقاصد کی کامیابی کے لیے دعائیں کریں گی کہ روزے دار کی دعا رد نہیں ہوتی اور اس  روزہ رکھنے کو اس موقع پر دین کا حصہ نہ سمجھا جاتا ہو اور نہ رکھنے والوں پر طعن بھی نہ کیا جاتا ہو تو اس موقع پر روزہ رکھنا بدعت نہ ہو گا۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144306100818

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں