بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

احتیاطًا تجدیدِ نکاح کی صورت میں مہر کا حکم


سوال

میں پب جی گیم کھیلتا ہوں، شادی شدہ ہوں،  مجھے یاد نہیں کہ کوئی شرک والی حرکت مجھ سے ہوئی ہے یا نہیں؛ لہذا احتیاطی طور پہ تجدیدِ نکاح چاہتا ہوں طریقہ کار میں راہ نمائی فرمائیں، اور حق مہر دینا ہوگا تجدید نکاح میں یا نہیں؟ اس کا حکم کیا ہے؟

جواب

پب جی گیم کھیلنا بہت سے مفاسد کی بنا پر ناجائز ہے، البتہ تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح کا حکم صرف اس شخص کے لیے ہوگا جس نے اس گیم میں پلیئر کو بتوں کے سامنے جھکانے کا عمل کیا ہو۔ اور جس شخص نے مذکورہ عمل کیے بغیر یہ گیم کھیلا ہو وہ دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوگا، البتہ ناجائز کام کرنے کی وجہ سے گناہ کا مستحق ہوگا اور اس پر توبہ و استغفار لازم ہوگا۔

تفصیل کے لیے جامعہ کی ویب سائٹ پر موجود درج ذیل فتویٰ ملاحظہ کیا جائے:

کیا پب جی گیم کھیلنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟

اور تجدید نکاح کا طریقہ یہ ہے کہ:  دومرد گواہوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ نکاح کا ایجاب وقبول کرلیا جائے،  مثلاً: بیوی کہے کہ: میں نے  اتنے مہر کے بدلہ اپنے آپ کو آپ کے نکاح میں دیا اورشوہر کہے کہ میں نے قبول کیا، تاہم   صرف احتیاط کی بنا پر  نکاح کی تجدید کی گئی ہو تو نیا مہر متعین کرنا ضروری نہیں ہے، اور  اس نفسِ نکاح سے (جب کہ مہر میں اضافہ مقصود نہ ہو) مہر بھی لازم نہیں  ہوگا۔ فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144202201214

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں