بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

احتلام سے بچنے کا عمل


سوال

احتلام سے بچنے کی مختصر دعا کیا ہے؟ تاکہ نماز فجر قضا ہو نے سے بچ جائے۔

جواب

احتلام سے بچنے کے لیے صحت کا خیال رکھیں، شہوت بھڑکانے والے اسباب (افراد، خیالات اور مواد مثلاً فلمیں و غیرہ) سے دور رہیں، کسی اچھے معالج سے مشورہ بھی  کرلیں۔باقی    اگر کسی شخص کو غسل کی حاجت ہو، تو غسل کرنے میں اتنی سستی کرنا جائز نہیں ہے کہ نماز قضا ہو جائے، بلکہ اس صورت میں فجر سے پہلے غسل کرکے وقت پر نمازِ فجر ادا کرنی چاہیے، بیدار ہونے کے بعد پانی موجود ہوتے ہوئے غسل کرنے میں اتنی تاخیر کرنا  کہ  نماز کا وقت نکل جائے  اور  قضا پڑھنی پڑے جائز نہیں ہے۔جب کہ احتلام کی شکایت دور کرنے کے لیے     درج ذیل وظائف کا اہتمام کریں:

"1- سوتے وقت شہادت کی انگلی سے اپنے سینے پر 'عمر'  اس طرح لکھے کہ (سامنے سے) پڑھنے والے کے سامنے سیدھا ہو، بفضلہ تعالی کثرتِ احتلام کا مرض جاتا رہے گا۔

2- بستر پر جاتے وقت سورۂ 'و الطارق' پڑھ لیا کرے، تو   کبھی کثرتِ احتلام کا مرض نہیں ہوگا، اور اگر پہلے سے یہ مرض ہوگا تو  بالکل ختم ہوجائے گا۔"

(گنجینۂ اَسرار، ص:152، ط: بیت الحکمت، دیوبند)

حکیم الامّت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ بھی لکھتے ہیں:

"[سورۂ]'والسماء و الطارق'سوتے وقت پڑھنے  سے، احتلام سے حفاظت رہتی ہے۔"

(اعمالِ قرآنی، ص:109، ط: دار الاشاعت)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"الجنب إذا أخر الاغتسال إلى وقت الصلاة لايأثم، كذا في المحيط".

(کتاب الطھارۃ،1/ 16، ط: المطبعة الكبرى الأميرية، بولاق مصر)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144503103059

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں