بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1442ھ 04 اگست 2021 ء

دارالافتاء

 

احرام کی حالت میں لازم ہونے والے دم کو حدود حرم میں ذبح کرنا ضروری ہے یا نہیں؟


سوال

 جس بندہ پر دم لازم ہو جائے تو اس کا ذبح حرم کےحدود میں ضروری ہے یا کہیں اور بھی ہوسکتا ہے ؟

جواب

احرام کی حالت میں اگر کسی جنایت کی وجہ سے ذمہ پر دم لازم ہوجائے تو اس کا حدود حرم میں ذبح کرنا ہی ضروری ہے، کسی دوسری جگہ ذبح نہیں کیا جاسکتا ہے۔

فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 78):

"(والهدي لا يذبح إلا بمكة) لقوله تعالى {هديا بالغ الكعبة} [المائدة: 95] (ويجوز الإطعام في غيرها) خلافا للشافعي -رحمه الله -. هو يعتبره بالهدي والجامع التوسعة على سكان الحرم، ونحن نقول: الهدي قربة غير معقولة فيختص بمكان أو زمان. أما الصدقة قربة معقولة في كل زمان ومكان.

(قوله: ونحن نقول إلخ) وذلك أنه لما عين الهدي أحد الواجبات علم أنه ليس المراد مجرد التصدق باللحم وإلا لحصل التصدق بالقيمة أو بلحم يشتريه، بل المراد التقرب بالإراقة مع التصدق بلحم القربان، وهو تبع متمم لمقصوده فلا ينعدم الإجزاء بفواته عن ضرورة، فلذا لو سرق بعد الإراقة أجزأه، بخلاف ما لو سرق قبلها أو ذبح بالكوفة فسرق لا يجزيه؛ لأن القربة هناك لا تحصل إلا بالتصدق لاختصاص قربة الإراقة بمكان مخصوص أعني الحرم."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201201389

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں