بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1445ھ 26 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

افطار کا دارومدار غروبِ آفتاب پر ہے، اذان پر نہیں ہے


سوال

آج میں نے روزہ رکھا تھا، ابھی مغرب کو میں نے اہل ِحدیث کی اذان سے روزہ کھولا، میں سمجھا کہ یہ ہماری کسی مسجد کی اذان ہے، اب میرا روزہ صحیح ہے یا  نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ روزہ کے افطار کا وقت غروبِ آفتاب ہے،اذانِ مغرب نہیں ہے، اذان غروب ِآفتاب کی علامت ہے، لہٰذااگر کوئی شخص  غروبِ آفتاب سے پہلے روزہ افطار کرےتو اس کا روزہ درست نہیں ہو گا ،اگر چہ اذانِ مغرب ہوچکی ہو،صورتِ مسئولہ میں اہلِ حدیث کی اذان(جس کو سن کر سائل نےروزہ افطار کیاہے)اگر غروبِ آفتاب کےبعد دی گئی ہوتو سائل کا روزہ درست ہوگا،اور اگر غروبِ آفتاب سےپہلی دی گئی ہو توروزہ مکمل نہیں ہوگا اور اس روزے کی قضاء کرنی ہوگی۔

حدیث شریف میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا أقبل الليل من ههنا، وأدبر النهار من ههنا، وغربت الشمس، ‌فقد ‌أفطر الصائم."

(كتاب الصوم، باب متى يحل فطر الصائم، 36/3، ط:دار طوق النجاة بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(هو) لغة(إمساك عن المفطرات) الآتية (حقيقة أو حكما) كمن أكل ناسيا فإنه ممسك حكما (في وقت مخصوص) وهو اليوم.

(قوله: وهو اليوم) أي اليوم الشرعي من طلوع الفجر إلى الغروب."

(كتاب الصوم، 371/2، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403101853

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں