بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1445ھ 22 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

عدت وفات کی تاریخ کا حساب


سوال

سسر کا انتقال   30 جنوری ، رات چار بجے ہوا، چاند کی تاریخ 7 رجب تھی، اب عدت  شمار کرکے بتادیں کہ کب ختم ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ اگرکسی عورت کے  شوہر کا انتقال قمری (اسلامی) مہینے کی ابتدا یعنی پہلی تاریخ میں ہوا ہو، تو اس عورت کی  عدت چاند کے مہینوں کے اعتبار سے چار ماہ دس دن ہوگی، خواہ کوئی مہینہ انتیس کا ہی کیوں نہ ہو۔ اور اگر شوہر کا انتقال مہینے کے درمیان میں ہوا ہو تو   کل 130 دن شمار کرکے عدت گزارنا لازم ہوگا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ  كے سسر  كا 30 جنوری بمطابق 7 رجب  کو رات چار بجے انتقال  ہوا ہے، تو  اس کی بیوہ کی عدت   130 دن مکمل ہو نے كے بعد 9 جون كو رات چار بجے مکمل ہوجائے گی۔

"فتاوی شامی" میں ہے:

"في المحيط: إذا اتفق عدة الطلاق و الموت في غرة الشهر اعتبرت الشهور بالأهلة وإن نقصت عن العدد، وإن اتفق في وسط الشهر، فعند الإمام يعتبر بالأيام، فتعتد في الطلاق بتسعين يوماً، وفي الوفاة بمائة وثلاثين".

(3/ 509، کتاب الطلاق، باب العدة، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144410101546

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں