بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 رمضان 1442ھ 22 اپریل 2021 ء

دارالافتاء

 

ادارے کی شرائط کے مطابق دودھ میں پانی ملا کر کم قیمت میں دودھ فروخت کرنا


سوال

 میں حکومت کے ایک سرکاری حساس ادارے میں دودھ کا کام کر رہا ہوں ان کی شرائط و ضوابط کے مطابق دودھ 90 روپے فی لیٹر ہونا چاہیے، لیکن ان سے میں نے یہ کہا کہ تجربے سے یہ بات واضح ہے کہ 90 روپے کی قیمت میں دودھ نہیں پڑتا تو اس پر انہوں نے کہا کہ آپ ہمیں 90 روپے ہی کلو دیں، چاہے اس کے اندر پانی ملا کے دیں، ہمیں کوئی حرج نہیں، لیکن دودھ 90 روپے لیٹر ہی ہونا چاہیے، پانی آپ چاہے جتنا مرضی ملائیں، کیا ایسی صورت میں دودھ بیچنا ان کو جائز ہے؟ اس سارے مسئلے میں اس بات کا خیال رکھیں کہ دودھ کا باڑہ ان کے اندر ہی حساس ادارے کی جگہ پر ہوتا ہے؟

جواب

دودھ میں پانی ملاکر بیچنے کی ممانعت اُس وقت ہے جب کہ پانی ملے ہوئے دودھ کو خالص دودھ کہہ کر بیچا جائے اَگر گاہک کو پہلے ہی بتادیا جائے کہ اس میں پانی ملا ہوا ہے اور اُس کی اتنی قیمت ہے، اور گاہک اس کو بخوشی خریدے، تو شرعاً اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے، اور اس طرح کے کاروبار میں کوئی حرج نہیں ہے۔

لہذا مذکورہ ادارے کے مجاز افسر (جس کے پاس اختیارات ہوں) ان کی طرف سے اگر یہ اجازت ہو کہ نوے روپے کے حساب سے دودھ ہمیں دیں اور   دودھ مہنگا ہونے کی وجہ سے جس قدر نقصان ہو، اس کے بقدر پانی ملادیں تو آپ کے لیے اس حد تک پانی ملا کر بیچنے کی گنجائش ہوگی۔

اور اگر ان کے مجاز افسر کی اجازت نہ ہو،  بلکہ  کوئی ماتحت شخص،  ادارے کے باختیار افسر کو خالص دودھ کا ہی بتاکر آپ سے نوے روپے حساب سے لیتا ہو تو  یہ دھوکا دہی ہوگی، اس صورت میں آپ متعلقہ افسر کو  صحیح صورتِ حال کی وضاحت کرکے باہم رضامندی سے کوئی معاملہ طے کرلیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200838

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں