بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 محرم 1444ھ 10 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

ICAP کی ممبر شپ حاصل کرنے کا حکم


سوال

 ICAP پاکستان میں چارٹرڈ اکاؤنٹسی کا ادارہ ہے اور اسی کے ما تحت چارٹرڈ اکاؤنٹسی کے سارے امتحانات وغیرہ ہوتے ہیں،پھر یہ ادارہ کورس مکمل کرنے والوں کو ڈگری جاری کرتا ہے،ڈگری کو رسماًباقی رکھنے کے لیے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے لیے اس ادارہ کا ممبر ہونا ضروری ہے اور اس ممبر شپ کےلیے ہر سال ایک مخصوص فیس ادا کرنی ہوتی ہے۔

ہماری معلومات کے مطابق اس ممبر شپ فیس سے یہ ادارہ مختلف کام کرتاہے  اور اپنے تعلیمی اخراجات برداشت کرتاہے، لیکن ساتھ ہی یہ رقم وہ سود پر بھی لگاتاہے اور کمائی کرتاہے،ممبر بننے کا فائدہ یہ ہےکہ نوکری حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے ، کیوں کہ بہت سارے اداروں میں شرط ہوتی ہے کہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ICAP کا ممبر بھی ہو،اسی طرح اداروں کے CFO(چیف فنائنشل آفسر) کی پوزیشن صرف ممبر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کو ہی ملتی ہے۔

کیا پوری صورتِ حال میں میرے لیے ممبر بننا جائز ہوگا،جب کہ مجھے علم ہے کہ میں جو سالانہ ممبر شپ فیس ادا کروں گا ،اس کا کچھ حصہ وہ لوگ سود پر رکھیں گے۔

جواب

واضح رہے کہ ICAP بنیادی طور پر تعلیمی امتحانی ادارہ ہے،جو کہ کورس میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو اسناد جاری کرتا ہے،امیدواروں سے حاصل ہونے والی فیسوں کی رقم کا کچھ حصہ مذکورہ ادارہ بینک کے سودی اکاؤنٹ میں رکھ کر اس پر سود حاصل کرتا ہے تو یہ عمل شرعاً جائز نہیں،اسی طرح بطور سود حاصل ہونے والا نفع بھی شرعاً حرام ہے،البتہ اس ادارہ کی ممبر شپ حاصل کرنے والوں کا اس سودی لین دین میں کوئی کردار نہیں اور نہ ہی اس سے کوئی فائدہ حاصل کرتے ہیں، اس لیے ان کے لیے مذکورہ ادارہ کی ممبر شپ حاصل کرنے میں شرعاً  قباحت نہیں ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

"عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: " ‌كل ‌قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا."

(كتاب البيوع،باب كل قرض جر منفعة فهو ربا،573/5،ط:دار الکتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144306100032

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں