بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 رمضان 1442ھ 11 مئی 2021 ء

دارالافتاء

 

عبادات میں خیالات و وساوس ختم کرنے کے متعلق


سوال

 نماز اور دیگر عبادات اور ذکر و اذکار میں دنیاوی خیالات اور وسوسوے سے کیسے خود کو نکالا جائے  اور عبادت کو خالص بنایا جائے ؟

جواب

ہر عبادت کو اس کے آداب کے ساتھ ادا کرنے سے اس عبادت میں وساوس کم سے کم ہوجاتے ہیں۔ نیز پھر بھی بلا اختیار آنے والے خیالات اور وساوس امتِ محمدیہ ﷺ کے حق میں معاف ہیں، لہذا اس کی طرف زیادہ  دھیان نہ دیں، جیسے ہی تنبہ ہوجائے، عبادت میں دھیان دینے کی کوشش کرے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (1 / 135):

"(إن الله تجاوز) أي: عفا (عن أمتي) أي: أمة الإجابة، وفي رواية: تجاوز لي عن أمتي، أي: لم يؤاخذهم بذلك لأجلي فله المنة العظمى التي لا منتهى لها علينا (ما وسوست به صدورها) : بالرفع فاعلا أي: ما خطر في قلوبهم من الخواطر الرديئة، فهو من مجاز المحاورة، ويجوز نصبه مفعولا به. قيل: فيه نظر؛ لأن الوسوسة لازم، لنعم وجه النصب الظرفية إن ساعدته الرواية، وروي ما حدثت به أنفسها بالرفع، والنصب بدله (ما لم تعمل به) أي: ما دام لم يتعلق به العمل إن كان فعليا (أو تكلم) : به أي: ما لم تتكلم به إن كان قوليا كذا في الأزهار، قال صاحب الروضة في شرح صحيح البخاري: المذهب الصحيح المختار الذي عليه الجمهور أن أفعال القلوب إذا استقرت يؤاخذ بها فقوله صلى الله عليه وسلم: «فإن الله تجاوز عن أمتي ما وسوست به صدورها» ) محمول على ما إذا لم تستقر."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209200727

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں