بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف کا کیا کفارہ اور قضا ہے؟ اور قضا کتنے دن کی ہے؟


سوال

اعتکاف کاکیا کفارہ اور قضا   ہے؟ اور قضا کتنے دن کی ہے؟

جواب

رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا مسنون اعتکاف اگر ٹوٹ جائے تو ایک دن اور ایک رات کی قضا  واجب ہے، خواہ رمضان میں کرے یا رمضان کے بعد،  رمضان میں قضا کی تو رمضان کا روزہ کافی ہوگا، البتہ رمضان کے بعد قضا  کرنے کی صورت  میں   نفلی روزہ  رکھنابھی لازم ہوگا؛ کیوں کہ روزے  کے بغیر واجب اور مسنون اعتکاف معتبر نہیں۔یعنی  غروبِ آفتاب سے پہلے مسجد چلا جائے اور اگلے دن روزہ رکھے اور پھر غروبِ آفتاب کے بعد واپس آجائے، عورت گھر میں نماز کی جگہ پر اعتکاف کرلے۔ اعتکاف توڑنے کا کوئی کفارہ نہیں،  البتہ  اگر کسی عذر  کی وجہ سے اعتکاف توڑ دیا  ہوتو گناہ گار نہیں ہوگا ، اور اگر جان بوجھ کر اعتکاف  توڑ دیا ہو تو اس صورت   میں گناہ گار ہوگا، اس  لیے قضا کے  ساتھ استغفار بھی لازم ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ثم رأيت المحقق ابن الهمام قال: ومقتضى النظر لو شرع في المسنون أعني العشر الأواخر بنيته ثم أفسده أن يجب قضاؤه تخريجا على قول أبي يوسف في الشروع في نفل الصلاة تناوبا أربعا لا على قولهما اهـ أي يلزمه قضاء العشر كله لو أفسد بعضه كما يلزمه قضاء أربع لو شرع في نفل ثم أفسد الشفع الأول عند أبي يوسف، لكن صحح في الخلاصة أنه لا يقضي لا ركعتين كقولهما نعم اختار في شرح المنية قضاء الأربع اتفاقا في الراتبة كالأربع قبل الظهر والجمعة وهو اختيار الفضلي وصححه في النصاب وتقدم تمامه في النوافل وظاهر الرواية خلافه وعلى كل فيظهر من بحث ابن الهمام لزوم الاعتكاف المسنون بالشروع وإن لزوم قضاء جميعه أو باقيه مخرج على قول أبي يوسف أما على قول غيره فيقضي اليوم الذي أفسده لاستقلال كل يوم بنفسه......والحاصل أن الوجه يقتضي لزوم كل يوم شرع فيه عند هما بناء على لزوم صومه بخلاف الباقي لأن كل يوم بمنزلة شفع من النافلة الرباعية وإن كان المسنون هو اعتكاف العشر بتمامه تأمل."

(حاشية ابن عابدين على الدر المختار: كتاب الصوم، باب الاعتكاف (2/ 444، 245)،ـط. سعيد)

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح میں ہے:

قوله: "بلا عذر معتبر" أي في عدم الفساد فلو خرج لجنازة محرمة أو زوجته فسد لأنه وإن كان عذرا إلا أنه لم يعتبر في عدم الفساد قوله: "ولا إثم عليه به" أي بالعذر أي وأما بغير العذر فيأثم لقوله تعالى: {وَلا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ} [محمد: 33].

(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: كتاب الصوم، باب الاعتكاف (ص: 703)،ط. دار الكتب العلمية بيروت، الطبعة: الطبعة الأولى 1418هـ - 1997م)

فقط، والله اعلم


فتوی نمبر : 144209201987

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں