بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف کی شرعی حیثیت


سوال

کیا قرآن مجید میں اعتکاف میں بیٹھنے کا حکم ہے؟   اگر نہیں تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ فقہاءکرام ؒنے اعتکاف کی تین قسمیں بیان کی ہیں:

1۔واجب اعتکاف جیسے کوئی کہے کہ اللہ تعالی کے واسطے میرے ذمے اتنے دن اعتکاف واجب ہےیایہ نذرمانے کہ میں اتنے دن اعتکاف کروں گااگرمیرافلاں کام ہوگیاتواس قسم اعتکاف کاحکم یہ ہے کہ جتنے دنوں کااعتکاف اپنے اوپرواجب کیاہے اس کوپورا کرناضروری اور واجب ہے اوریہ کتاب اللہ کے حکم   "و لیوفوانذورھم" کے تحت داخل ہے۔

قرآن مجیدمیں ہے:

{وَلْيُوفُوْا نُذُوْرَهُمْ}

ترجمہ:"اوراپنے واجبات کو(خواہ نذرسے قربانی وغیرہ واجب کرلی ہویابلانذرابتداء جوافعال حج کےواجب ہیں جیسے رمی جمارکہ ایام منٰی میں ہوتی ہے ان سب کو)پوراکریں"

(بیان القرآن، سورةالحج ،الآية:29،ج:2،ص:519،ط:مكتبہ رحمانیہ باکستان)          

2۔سنت علی الکفایۃ   اعتکاف جیسے رمضان مبارک کے آخری عشرےکااعتکاف اس کاحکم یہ ہےکہ پورے محلے میں سے اگرایک شخص بھی اعتکاف میں بیٹھ گیاتوسب اہل محلہ کاذمہ بری  ہےاوریہ سنت سے واضح طورپراورکتاب اللہ سے دلالت کے طورپرثابت ہے۔

تفسیرمظہری میں ہے:

{وَلَا تُبٰشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عٰكِفُونَ فِي الْمَسٰجِدِ}

"قال البغوي الاية نزلت في نفر من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم كانوا يعتكفون في المسجد فاذا عرضت لرجل منهم الحاجة الى اهله خرج إليها فجامعها ثم اغتسل فرجع الى المسجد فنهوا عن ذلك ليلا ونهارا حتى يفرغوا من اعتكافهم".

(سورة البقرة،الآية:187،ج:1،ص:207،ط:مکتبہ رشیدیہ باکستان)

صحیح البخاری میں ہے:

عن عائشة رضي الله عنهازوج النبي صلى الله عليه وسلم: أن النبي صلى الله عليه وسلم «‌كان ‌يعتكف العشر الأواخر من رمضان حتى توفاه الله، ثم اعتكف أزواجه من بعده.»

(ابواب الاعتكاف،باب:الاعتكاف في العشرالاواخر،ج:3،ص:47،ط:السلطانية بالمطبعة الكبری الاميرية ببولاق مصر)

ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا سے مروی ہے کہ "حضورصلی اللہ علیہ وسلم رمضان مبارک کے آخری عشرے کااعتکاف فرماتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے انہیں دنیاسے رخصت کیا،پھران کے بعد ازواج مطہرات برابراعتکاف کرتی رہیں"

3۔نفلی اعتکاف جیسے جب بھی مسجدمیں داخل ہوتواعتکاف کی نیت کرکے داخل ہواگرچے ایک دومنٹ کے لیے ہو۔

نیز قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کو حکم فرمایا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں  اور رکوع سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھیں، (البقرہ)، اس آیت میں نماز، طواف اور اعتکاف تینوں عبادتوں کا ذکر موجود ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا بأس للمحدث أن يدخل المسجد في أصح القولين، ‌ويكره ‌النوم والأكل فيه لغير المعتكف، وإذا أراد أن يفعل ذلك ينبغي أن ينوي الاعتكاف فيدخل فيه ويذكر الله تعالى بقدر ما نوى أو يصلي ثم يفعل ما شاء، كذا في السراجية".

(كتاب الكراهية ،الباب الخامس في آداب المسجد،ج:5،ص:321،ط:المطبعة الكبری الاميرية ببولاق )

مراقی الفلاح میں ہے:

"والاعتكاف على ثلاثة أقسام واجب في المنذور وسنة كفاية مؤكدة في العشر الأخير من رمضان ومستحب فيما سواه وأقله نفلا مدة يسيرة ولو كان ماشيا على المفتى به ...قولہ(مستحب فيما سواه)أي في أي وقت شاء سوى العشر الأخير".

(كتاب الصوم،باب الاعتكاف،ص:264۔265،ط:دارالكتب العصرية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509102062

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں