بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ذو الحجة 1445ھ 13 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

حضرت ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ کا اصل نام کیا ہے؟


سوال

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کا اصل اور مکمل نام کیاہے جواب عنایت فرماکر ممنون فرمائیں۔

جواب

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے نام کے بارے میں متعدد اقوال منقول ہیں، راجح قول یہ ہے کہ ان کا اصل نام عبد الرحمٰن بن صخر تھا، ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ اسلام لانے سے پہلے ان کا نام عبدالشمس ( سورج کا بندہ) تھا اور کنیت ابو الاسود تھی،  لیکن اسلام لانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام تبدیل کر کے عبد اللہ رکھ دیا اور کنیت ابو ہریرہ رکھ دی۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے متعلق ایک بات یہ بھی مشہور ہے کہ ان کو کہیں سے بلی کے چھوٹے بچے ملے تو انہوں نے ان بلی کے بچوں کو اٹھاکر اپنی آستین میں ڈال دیا، اس وجہ سے ان کی کنیت ’’ابوہریرہ‘‘ پڑ گئی یعنی ’’بلی کے بچوں والا‘‘۔ چنانچہ یہ کنیت اتنی مشہور ہوگئی کہ بعد میں وہ اسی کنیت سے ہی جانے لگے، گویا یہ کنیت ہی ایک اعتبار سے ان کا نام بن گئی۔

سير أعلام النبلاء  میں ہے:

" أبو هريرة الدوسي عبد الرحمن بن صخر * (ع)

الإمام، الفقيه، المجتهد، الحافظ، صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم أبو هريرة الدوسي، اليماني، سيد الحفاظ الأثبات.

اختلف في اسمه على أقوال جمة، أرجحها: عبد الرحمن بن صخر.

وقيل: ابن غنم. وقيل: كان اسمه عبد شمس، وعبد الله. وقيل: سكين. وقيل: عامر. وقيل: برير. وقيل: عبد بن غنم. وقيل: عمرو. وقيل: سعيد.

وكذا في اسم أبيه أقوال. قال هشام بن الكلبي: هو عمير بن عامر بن ذي الشرى بن طريف بن عيان بن أبي صعب بن هنية بن سعد بن ثعلبة بن سليم بن فهم بن غنم بن دوس بن عدثان بن عبد الله بن زهران بن كعب بن الحارث بن كعب بن عبد الله بن مالك بن نصر بن الأزد. وهذا بعينه قاله خليفة بن خياط في نسبه، لكنه قال: عتاب في عيان، وقال: منبه في هنية.

ويقال: كان في الجاهلية اسمه عبد شمس، أبو الأسود، فسماه رسول الله صلى الله عليه وسلم: عبد الله، وكناه أبا هريرة۔ والمشهور عنه: أنه كني بأولاد هرة برية.

قال: وجدتها، فأخذتها في كمي، فكنيت بذلك. قال الطبراني: وأمه - رضي الله عنها - هي: ميمونة بنت صبيح".

(جلد۲، ص:۵۷۸، ط: موسسۃ الرسالۃ )

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502101977

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں