بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

حضور کے مرض وفات کا آغاز کس کے گھر میں ہوا؟


سوال

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض ِوفات کن زوجہ مطہرہ کے گھر پر شروع ہوا؟

جواب

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض ِ وفات کا آغاز ہواتو  آپ  اُس وقت    کہاں سکونت پذیر تھے؟ کتبِ سِیرَ میں اس بارے میں تین اقوال ملتے ہیں:

1.حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سکونت پذیر تھے۔2.حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں  سکونت پذیر تھے۔3.حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سکونت پذیر تھے۔

حافظ ابن ِ حجر   رحمہ اللہ نے پہلے قول کو  معتمدقراردیا ہے، اور دیگر اربابِ سِیَر نے بھی پہلے قول کو صحیح اور معتمد قراردیا ہے۔

"صحيح مسلم"میں ہے:

"حدّثنا محمدُ بن رافع وعبدُ بن حميد، - واللفظُ لابن رافع -، قالا: حدّثنا عبدُ الرزاق، أخبرنا معمرٌ، قال: قال الزهريُّ: وأخبرني عُبيدُ الله بن عبد الله بن عُتبة أنّ عائشة أخبرتْه قالتْ:  أوّل ما اشتكى رسولُ الله -صلّى الله عليه وسلّم- في بيت ميمونة، فاستأذن أزواجَه أن يمرّض في بيتها وأذنّ له، قالتْ: فخرج ويدٌ له على الفضل بن عباس ويدٌ له على رجلٍ آخر، وهو يخُطُّ برجليه في الأرض،  فقال عُبيد الله: فحدّثتُ به ابن عباس فقال: أتدريْ مَن الرجل الذي لم تُسمِّ عائشة هو عليٌّ."

(كتاب الصلاة، باب استخلاف الإمام إذا عرض له عذر ... إلخ، 1/312، رقم:418، ط:دار إحياء التراث العربي)

ترجمہ:

’’حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ  کہتے ہیں   کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نےاُنہیں بیان کیا، وہ فرماتی ہیں:پہلے پہل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (حضرت) میمونہ (رضی اللہ عنہا) کے گھر میں تکلیف شروع ہوئی  ،  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےتمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے میرے گھر میں ایامِ مرض گزارنے کے لیے اجازت مانگی تو  سب نے اجازت دے دی ،پھر آپ(حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے) اس حال میں  نکلے کہ  آپ ایک ہاتھ سے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ پر اور ایک ہاتھ سے کسی  دوسرے شخص  پر(سہار ا دیے ہوئے) تھےاور آپ کے دونوں پاؤں زمین پر  گھسٹ رہے تھے،حضرت عبید اللہ کہتے ہیں: پھر میں نےحضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکی یہ روایت حضرت  عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے بیان کی   تو انھوں نے فرمایا: تم جانتے ہووہ دوسرے صاحب جن کا نام(حضرت) عائشہ رضی اللہ عنہا نے نہیں لیا، کون ہیں ؟ وہ (حضرت) علی  رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘

"صحيح بخاری" میں مذکورہ  واقعہ"صحيح مسلم" کی نسبت زیادہ تفصیل کے ساتھ مذکورہے،البتہ اُس میں   اس کی صراحت نہیں ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مرض ِ وفات کے آغاز  میں  کہاں سکونت پذیر تھے۔

"صحيح البخاري"میں ہے:

"حدّثنا سعيدُ بن عفير، قال: حدّثني الليث، قال: حدّثني عُقيلٌ عن ابن شهاب، قال: أخبرني عُبيدُ الله بنُ عبدِ الله بن عُتبة بنِ مسعودٍ أنّ عائشة زوج النبيِّ -صلّى الله عليه وسلّم- قالتْ: لما ثقُل رسول الله -صلّى الله عليه وسلّم- واشتدَّ به وجعُه، استأذن أزواجَه أن يمرّض في بيتي، فأذنَّ له، فخرج وهو بين الرجلين تخُطُّ رِجلاه في الأرض، بين عباسِ بن عبد المطلب وبين رجلٍ آخرَ، قال عُبيد الله: فأخبرتُ عبدَ الله بالذي قالتْ عائشة، فقال لي عبدُ الله بن عباس: هل تدرِيْ مَن الرجل الآخر الذي لم تُسمّ عائشة؟ قال: قلتُ: لا، قال ابنُ عباس: هو علي بن أبي طالب. وكانتْ عائشةُ زوج النبيِّ -صلّى الله عليه وسلّم- تُحدِّث أنّ رسول الله -صلّى الله عليه وسلّم- لما دخل بيتي واشتدَّ به وجعُه قال: هريِقوا عليَّ مِن سبع قِرَبٍ لم تُحلَلْ أوكيتُهنَّ، لعلِّي أعهدُ إلى الناس، فأجلسناه في مِخضَبٍ لحفصة زوج النبيِّ -صلّى الله عليه وسلّم-، ثمّ طفِقنا نصبُّ عليه مِن تلك القِرَب، حتّى طفِق يُشير إلينا بيده أنْ قد فعلتُنَّ، قالتْ: ثمّ خرج إلى الناس فصلّى بهم وخطبَهم."

(كتاب المغازي، باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم ووفاته، 6/11، رقم:4442، ط:دار طوق النجاة)

ترجمہ:

’’(امام ) ابنِ شہاب (زہری) رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھےحضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ  نے خبردی    کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں:جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اٹھنا بیٹھنا دشوار ہوگیا اور آپ کے مرض نے شدت اختیا ر کرلی تو آپ نے تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن سے میرے گھر میں ایام ِمرض گزارنے کے لیے اجازت مانگی ، سب نے جب اجازت دے دی تو آپ(حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے) اس حال میں  نکلے کہ آپ دو آدمیوں کا سہارا لیے ہوئے تھے اور آپ کے پاؤں زمین سے گھسٹ رہے تھے ، جن دو صحابہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سہارا لیے ہوئے تھے ، اُن میں ایک عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ تھے اور ایک اَورصاحب ۔  حضرت عبید اللہ کہتے ہیں : پھر میں نے  حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت کی خبرحضرت  عبد اللہ( بن عباس) رضی اللہ عنہما کو دی تو انھوں نے مجھ سے فرمایا:تمہیں معلوم ہے کہ وہ دوسرے صاحب جن کا نا م(حضرت) عائشہ رضی اللہ عنہا نے نہیں لیا، کون ہیں ؟ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا:(مجھے تو) نہیں( معلوم )، تو حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:  وہ حضرت  علی  بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ  حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے گھر میں آگئے اور تکلیف بہت بڑھ گئی تو آپ نے فرمایا : سات   منھ بند مشکیزوں کاپانی  مجھ پر ڈال دو ، ممکن ہے اس طرح میں لوگوں کو کچھ نصیحت کرنے کے قابل ہوجاؤں ، چنانچہ ہم نے آپ کو آپ کی زوجہ مطہرہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ایک لگن (بڑے برتن) میں بٹھا یا اور اُنہیں مشکیزوں سے آپ پرپانی بہانے لگے  یہاں تک کہ آپ نے اپنے ہاتھ کے اشارہ سے روکا کہ بس ہوچکا ، فرماتی ہیں: پھر آپ لوگوں کے مجمع میں گئے ، آپ نے اُنہیں نماز پڑھا ئی اور اُنہیں   خطاب کیا۔‘‘

"فتح الباري"میں ہے:

"وأمّا ابتداؤُه فكان في بيت ميمونة كما سيأتي، ووقع في السِّيرة لأبي مَعشر: في بيت زينب بنت جَحش، وفي السيرة لسُليمان التيمي: في بيت رَيحانة، والأوّل المعتمد".

(8/129، كتاب المغازي، باب مرض النبي- صلى الله عليه وسلم- ووفاته، ط:دار المعرفة-بيروت)

ترجمہ:

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کے مرض) کی ابتداء  تو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہوئی تھی،جیسا کہ  آگے آئے گا۔"السِّيرة لأبي مَعشر"میں حضرت  زینب بن جحش رضی اللہ عنہا کے  گھر میں(مرض كي ابتداء) ہونا،"السيرة لسُليمان التيمي"میں حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں  (مرض کی ابتداء) ہونا واقع ہوا ہے،(مگر) پہلا قول معتمد ہے۔‘‘

امام قسطلانی رحمہ اللہ نے بھی  "المواهب اللدنية بالمنح المحمدية"میں حافظ ابنِ حجر رحمه الله  جیسی تفصیل ذکر کی ہے۔

(المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، المقصد العاشر، الفصل في إتمامه تعالى نعمته عليه بوفاته ... إلخ، 3/544، ط:المكتبة التوفيقية، القاهرة-مصر)

"سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد"میں ہے:

"قال أبو الفرج بنُ الجوزي: ابتدأَ به صُداع في بيت عائشة، ثمّ اشتدَّ أمرُه في بيت ميمونة، وقيل: في بيت زينبَ بنت جحشٍ، وقيل: في بيت ريحانةَ. قال الحافظ: وكونُه في بيت ميمونة هو المعتمد؛ لأنّه الذي رواه الشيخان عن عائشة- رضي الله تعالى عنها-."

(جماع أبواب مرض ... إلخ، الباب الخامس في ابتداء مرضه ... إلخ، 12/235، ط:دار الكتب العلمية-بيروت)

ترجمہ:

’’حافظ ابو الفرج ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:(ابتداءً)حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر  میں آپ کے سر میں درد سے(مرض کی) ابتداء ہوئی،پھر حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر  میں اِس  معاملے میں  شدت  ہوگئی،بعض کہتے ہیں:حضرت  زینب بن جحش رضی اللہ عنہا کے گھر ، اور بعض کہتے ہیں:حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ( مرض میں شدت  ہوگئی)۔حافظ (ابنِ حجر) رحمہ اللہ فرماتے ہیں:حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں آپ  کا ہونا  ہی معتمد ہے؛ اس لیے کہ شیخین (امام بخاری وامام مسلم رحمہما اللہ)نے  حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے  اِسی کو روایت کیا ہے۔‘‘

"جمع الوسائل في شرح الشمائل"میں ہے:

"قال في جامع الأصول: كان ابتداءُ مرض النبيِّ - صلّى الله عليه وسلّم - مِن صُداعٍ عَرض له، وهو في بيت عائشة، ثم اشتدّ به، وهو في بيت ميمونة، ثمّ استأذن نساءَه أن يمرّض في بيت عائشة فأذنَّ له".

(باب ماجاء في وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، 2/202، ط:المطبعة الشرفية-مصر)

ترجمہ:

’’"جامع الأصول"میں لکھا ہے:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض کی ابتداء سر میں درد سے ہوئی تھی اور آپ اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے،پھر  اس میں شدت ہوگئی اور آپ اس وقت حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے،پھر آپ نے اپنی  تمام ازواجِ مطہرات سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایامِ مرض گزارنے کی اجازت مانگی تو سب نے اجازت دے دی۔‘‘

"أشرف الوسائل إلى فهم الشمائل"میں ہے:

"وصحّ أنّ ابتداء مرضه فى بيت ميمونة، وقيل: زينب، وقيل: ريحانة."

(باب ماجاء في وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، ص:561، ط:دار الكتب العلمية،بيروت-لبنان)

ترجمہ:

’’صحیح یہ ہے کہ آپ کے مرض کی ابتداء حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے  گھر میں ہوئی تھی،بعض کہتے ہیں کہ حضرت زینب(بنت حجش)رضی اللہ  عنہا، اوربعض کہتے ہیں کہ حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا (گھر میں مرض کی ابتداء) ہوئی تھی۔‘‘

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144408100886

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں