بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جمادى الاخرى 1446ھ 04 دسمبر 2024 ء

دارالافتاء

 

حضور کا سلسلہ نسب صحیح سند سے کہاں تک ثابت ہے؟


سوال

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم  کا نسب شریف صحیح سند سے کہاں تک ثابت ہے؟

جواب

 نبی کریم صلی اللہ  علیہ وسلم کے نسب مبارک کے  دو سلسلے ہیں:

۱۔پدری  (یعنی والد کی طرف سے) سلسلہ۔

۲۔مادری (یعنی والدہ کی طرف سے) سلسلہ۔

نسب کے یہ دونوں سلسلے’’کلاب ‘‘ پر جاکر مل جاتے ہیں۔ تفصیل  درج ذیل   ہے:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد  حضرت عبد اللہ کی طرف سے آپ کا سلسلۂ نسب یوں  ہے:

"مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ قُصَيِّ بْنِ كِلاَبِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَعبِ بْنِ لؤَيِّ بْنِ غالِبِ بْنِ فِهْرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ مُدْرِكَةَ بْنِ إِلْيَاسَ بْنِ مُضَرَ بْنِ نِزَارِ بْنِ مَعَدِّ بْنِ عَدْنَانَ".

(صحيح البخاري، كتاب مناقب الأنصار، باب مبعث النبي-صلّى الله عليه وسلّم-، 5/44، ط:دار طوق النجاة)

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ حضرت  آمنہ کی طرف سے آپ  کا سلسلۂ  نسب یوں ہے:

"مُحَمَّدُ بْنُ آمِنَةَ بِنْتِ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ بْنِ كِلابِ".

(الروض الأنف، 2/6، ط: دار إحياء التراث العربي-بيروت)

  حافظ ابن سعد رحمہ اللہ"الطبقات الكبرى"میں لکھتے ہیں:

"أخبرنا هشامٌ، قال: أخبرنِيْ أبِيْ عنْ أبِيْ صالحٍ عنْ ابنِ عباسٍ-رضي الله عنهما- أنّ النّبِيَّ -صلّى الله عليه و سلّم- كانَ إذَا أنتسبَ لم يُجاوِزْ في نسبِه مُعدِ بنِ عَدْنَانِ بنِ أُدَدٍ، ثُمّ يُمسِكُ، ويقولُ: كذِب النسّابُون، قالَ اللهُ -عزَّ و جلَّ-: وقُروناً بين ذلك كثيراً. قال ابنُ عباسٍ-رضي الله عنهما-: لَوْ شاءَ رسولُ اللهِ -صلّى الله عليه و سلّم- أنْ يُعلِمَه لَعلِمه".

(الطبقات الكبرى، ذكر نسب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ... إلخ، 1/56، ط: دار صادر-بيروت)

ترجمہ:

’’(حضرت عبد اللہ) ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نسب مبارک بیان فرماتے تو  معد بن عدنان سے تجاوز نہیں فرماتے  تھے، بلکہ عدنان پر پہنچ کر رک جاتے تھے  اور فرماتے تھے: اہلِ انساب نے  غلط کہا(یعنی   اس کے بعد اہلِ انساب جو کہتے ہیں وہ بغیر تحقیق کے کہتے ہیں، انہیں سلاسلِ انساب کی تحقیق نہیں ہے)، اللہ عزوجل ارشاد فرماتے ہیں: وقُروناً بين ذلك كثيراً۔(حضرت عبد اللہ) ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم(عدنان سے اوپر  سلسلۂ  نسب کے متعلق تفصیل )  جاننا چاہتےتو( اللہ تعالی کی طرف سے بذریعہ وحی )آپ جان لیتے‘‘۔

حافظ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ"زاد المعاد في هدي خير العباد"میں لکھتے ہیں:

"إلى هاهُنا معلومُ الصّحةِ متفقٌ عليه بين النسّابِيْنَ، ولَا خِلافَ فيه البتةَ، ومَا فوقَ "عدنان" مختلفٌ فيه. ولَا خِلافَ بينَهم أنّ "عدنان" مِن وُلد إسماعيلَ".

(زاد المعاد، فصل في نسبه-صلّى الله عليه وسلّم-، 1/70، ط: مؤسسة الرسالة-بيروت)

ترجمہ:

’’ یہاں تک(یعنی عدنان تک سلسلۂ نسب) کی صحت معلوم ہے،   تمام اہلِ انساب کا اس  پر اتفاق   ہے،کسی کا ایک  کا بھی اس میں اختلاف نہیں ہے،عدنان سے اوپر  کےسلسلۂ  نسب  میں (اہلِ انساب کے مابین) اختلاف ہے۔ نیز عدنان کے (حضرت)  اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہونےکےبارے میں    اہل ِ انساب کے مابین کوئی اختلاف نہیں  ہے‘‘۔

 مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے    نسب مبارک  کے بارے میں عدنان تک جو تفصیل اوپر ذکرکی گئی ہے، اس    کی صحت مسلم ہے،  آپ    صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی زبانِ مبارک سےبھی اپنا سلسلۂ  نسب یہاں  تک  بیان فرمایا ہے ، اہلِ انساب    اس کے بعد جو سلسلۂ  نسب بیان کرتے ہیں،  اس   کی طرف جھوٹ کی نسبت  بھی کی ہے۔نیز عدنان  تک کے سلسلۂ نسب  پراہل ِ انساب کا بھی اتفاق ہےاور عدنان کے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہونے پر بھی ان کا اتفاق ہے،لیکن عدنان سے اوپر حضرت اسماعیل علیہ السلام   تك  کتنی پشتیں ہیں، اس بارے میں  اہل ِ انساب کے مابین بھی  کا فی اختلاف ہے، جس کی  کسی قدر تفصیل "فتح الباري (كتاب المناقب، باب نزل القرآن بلسان قريش، ج: 6، ص:538-539، ط: دار المعرفة-بيروت) "میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144603101164

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں