بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

حضوراکرم ﷺ کا اس وقت کسی امتی کی بات سننا!


سوال

حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کسی امتی کی بات کوسن سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ رسول اللہ ﷺ وفات کے بعد اپنی قبر مبارک میں حیات ہیں، جیساکہ صحیح حدیث میں ہے: انبیاءِ کرام علیہم السلام اپنی قبورِ مبارکہ میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔ لہٰذا جو شخص رسول اللہ ﷺ کے روضۂ مبارکہ کے پاس بات کرتاہے اسے سنتے ہیں، ایک حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص  روضہٴ اقدس کے پاس  درود وسلام پڑھتا ہے، اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم براہِ راست خود سنتے ہیں اور  دوسری روایت میں ہے کہ اس کا جواب بھی آپ ﷺ دیتے ہیں، اور جو شخص دور سے درود وسلام  بھیجتا ہے اس کو وہ فرشتے رسول اللہ ﷺ تک پہنچادیتے ہیں، جو اس خدمت پر مامور ہیں۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح :

(وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ومن صلى علي عند قبري سمعته» ) : أي [سمعًا] حقيقيًّا بلا واسطة، قال الطيبي: هذا لاينافي ما تقدم من النهي عن الاعتياد الدافع عن الحشمة، ولا شك أن الصلاة في الحضور أفضل من الغيبة. انتهى، لأن الغالب حضور القلب عند الحضرة والغفلة عند الغيبة.

(باب  الصلوة على النبى صلى الله عليه وسلم، ج:3، ص:17، ط:مكتبه حنيفيه)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

وعن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «ما من أحد يسلم علي إلا رد الله علي روحي، حتى أرد عليه السلام» " رواه أبو داود والبيهقي في: " الدعوات الكبير.

(باب  الصلوة على النبى صلى الله عليه وسلم، ج:3، ص:09، ط:مكتبه حنيفيه)
فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144201200831

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں