بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 رمضان 1441ھ- 24 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

حضور صلی اللہ علیہ وسلّم کی تاریخ پیدائش ووفات میں راجح قول


سوال

السلام عليكم ! محمد صلی وسلم جب پیدا ہوئے اس وقت اسلامی اور انگریزی دن اور تاریخ کیا تھا، کیااختلاف ہے اور کبارعلماء کرام کے درمیان پسندیدہ کی کیا رائے ہے ؟ محمد صلی وسلم جب انتقال کرگئے اسلامی اور انگریزی دن اور تاریخ کیا ہے،، کیا اختلاف ہے اور کبارعلماء کرام کے درمیان پسندیدہ کی کیا رائے ہے؟ ایک شخص کو مندرجہ بالا تاریخوں پر کیا کرنا چاہیے، صحابہ وغیرہ نے کیا کیا؟ حوالہ کے ساتھ جواب فراہم کریں

جواب

حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت مستند قول کے مطابق 9 ربیع الاول بمطابق 20 یا 22 اپریل 571عیسوی کو ہوئی، ( اپریل کی تاریخ کا اختلاف عیسوی تقویم کے اختلاف کا نتیجہ ہے)۔ البتہ تاریخ وفات میں بھی اختلاف ہے، مشہور قول کی بنا پر 12 ربیع الاول سن11 ہجری بروز پیر کو وفات ہوئی، بعض نے یکم ربیع الاول کو اور بعض نے 2 کو تاریخ وصال قرار دیا ہے، علامہ سہیلی نے روضۃ الانف میں اور علامہ ابن حجر نے فتح الباری میں اسی کو راجح قرار دیا ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ اس دن کیا عمل کرنا چاہیے تو صحابہ کرام، تابعین ، تبع تابعین یعنی خیر القرون میں یوم پیدائش و وفات دونوںدنوں سے متعلق کوئی خاص عمل منقول نہیں ہے۔ واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143503200007

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے