بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 رجب 1444ھ 27 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو خا تم النبیین ہونے میں وحدہ لاشریک لہ کہنا اور لکھنا


سوال

’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبیّین ہونے میں وحدہ لاشریک لہ ہیں‘‘ ، ایسا لکھنا اور  بولنا کیسا ہے؟

جواب

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  ’’خاتم النبیین‘‘ ہیں اور یہ صفت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی خاص ہے،اور اس صفت میں ان کے ساتھ کوئی نبی اور رسول شریک نہیں ، لہٰذابا یں معنی   محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے نام کے ساتھ   ’’خاتم النبیّین ہونے میں وحدہ لاشریک لہ‘‘کہنا اور لکھنا جائز ہے،البتہ چو ں کہ وحدہ لاشریک لہ والی یہ صفت اور اصطلاح قرآن و حدیث میں  اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے لیے ہی مستعمل  ہے،اس لیے ایسا لکھنے اور بولنے سے احتراز   کرنا چاہئے،تاکہ عوام الناس کسی  وہم اور شبہ میں مبتلا نہ ہوں۔

قرآن کریم میں ہے:

"[ مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا]"(الأحزاب:40)

"صحيح مسلم "میں ہے:

"وحدثنا يحيى بن أيوب وقتيبة وابن حجر. قالوا: حدثنا إسماعيل (يعنون ابن جعفر) عن عبد الله بن دينار، عن أبي صالح السمان، عن أبي هريرة؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال "مثلي ومثل الأنبياء من قبلي كمثل رجل بنى بنيانا فأحسنه وأجمله. إلا موضع لبنة من زاوية من زواياه. فجعل الناس يطوفون به ويعجبون له ويقولون: هلا وضعت هذه اللبنة! قال فأنا اللبنة. وأنا ‌خاتم ‌النبيين."

(كتاب الفضائل، باب ذكر كونه صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين، ج:4،ص:1790،رقم:2286،ط:دار إحياء التراث العربي)

"الفقه الأكبر"میں ہے:

"والله تعالى واحد لا من طريق العدد ولكن من طريق انه ‌لا ‌شريك ‌له لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد لا يشبه شيئا من الأشياء من خلقه ولا يشبهه شيء من خلقه لم يزل ولا يزال بأسمائه وصفاته الذاتية والفعلية."

(وحدانية الله تعالى،ص:14،ط:مكتبة الفرقان)

" أحكام القرآن للجصاص"  میں ہے:

".... وهذا يدل على أن كل لفظ احتمل الخير والشر فغير جائز إطلاقه حتى يقيد بما يفيد الخير، ويدل على أن الهزء محظور في الدين، وكذلك اللفظ المحتمل له ولغيره هو محظور; والله أعلم بمعاني كتابه."

(مدخل،ج:1،ص:70،ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144402100381

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں