بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1441ھ- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

ھنڈی کے کاروبار کاحکم


سوال

السلامُ علیکم : مفتی صاحب کیا هنڈی کا کام کرنا جائز هے یا ناجائز ؟جسمیں هم یها ں سعودیہ سے اگر کسی آدمی کا ۱۰۰۰سعودی ریال پاکستان بھیجتے هیں، پاکستان میں اسی دن وہ رقم اس آدمی کے گهر والوں کو دی جاتی هیں فرق یہ هوتا هے اگر اس دن ریٹ چوبیس هزار ۲۶۰۰۰هوتاهے تو هم انکو ۲۵۰۰۰پاکستانی میں دیتے هیں آپ قران وُسنت کی روشنی میں جواب دیں کیوں کے کچھ لوگ کهتے ھیں کہ یہ نا جائز کاروبار هے :اگر یہ ناجائز هے تو کس صورت میں جائز بن سکتا هے تاکہ گناہ سےبچ جائیں ضرور مدلل جواب دیں ْ۔

جواب

ھنڈی کی صورت میں جس ملک میں رقم بھیجی ھے اس ملک میں بھیجی جانے والی کرنسی کی عام مارکیٹ میں جو قیمت ھے اتنی ہی رقم لی جاسکتی ھے،اس سے زائد وصول کرنا جائز نہیں ھے، لھذا اگر ریال کی قیمت پاکستان میں وصول کرنے کے دن 24000 ھے تو 24000 ھی وصول کی جاسکتی ھے، 25000 وصول کرنا جائز نھیں، البتہ اگر الگ سے اجرت طے کرکے لی جائے تو اس کی گنجائش ہے۔ واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143409200011

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے