بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 جمادى الاخرى 1441ھ- 19 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

ھنڈی اور اس کے کاروبار کا حکم


سوال

جناب میرا نام محمد عامر ہے۔ میں دبئ میں کام کرتا ہوں۔ میرا سوال ملک میں پیسوں کے بھیجنے کے نظام کے بارے میں ہے۔عمومآ دبئ سے پاکستان پیسے بھیجنے کے بہت سے طریقے ہیں۔ جن میں سے ایک حوالہ یا ھنڈی ھے۔ جسکی مختصر تفصیل یہ ہے کہ یھاں دبئ میں درہم میں پیسے اسکے کام کرنے والے کو دیے جاتے ہیں اور اس وقت کے ریٹ کے حساب سے پاکستان میں وصول کیے جاتے ہیں۔1- اس طریقے سے پیسے بھیجنے میں کوئ حرج تو نہیں۔2- اس کا کاروبار کرنا کیسا ہے۔ (حوالہ / ھنڈی)

جواب

ھنڈی کے ذریعہ بھیجی جانے والی رقم اگر کرنسی کے مارکیٹ ریٹ کے مطابق ہی دی جاتی ہے اور رقم کی ترسیل کی اجرت اصل رقم میں سے منہا نہیں کی جاتی بلکہ الگ سے طے کرکے لی جاتی ہے تو یہ صورت جائز ہے اوراس تفصیل کے مطابق ھنڈی کا کاروبار بھی جائز ہے۔ واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143506200030

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے