بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 محرم 1444ھ 18 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

ہم بستری کے وقت دوسری عورت کا تصور کرنا گناہ ہے


سوال

آج کل کا ماحول خراب ہے، جتنی کوشش کرلوں  نظروں کی حفاظت کی، پھر بھی کوئی بھی شکل دماغ میں سوار ہوجاتی ہے اور پھر اگر اپنی بیوی میں کشش محسوس نہ ہو تو کسی اور عورت یا پھر دماغ میں موجود غیر فطری حسن کی حامل خاتون کو سوچ کراپنی بیوی سے صحبت کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ اور اگر بیوی سے بالکل بھی کشش محسوس نہ ہو تو پھر بھی نکاح میں رکھا جاسکتا ہے یا نہیں؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں بیوی کے علاوہ کسی عورت کے بارے میں بالارادہ غلط جذبات اور خیالات لانا جائز نہیں ہے، خواہ کسی بھی وقت ہو، حدیث پاک میں ہے کہ دل تمنا کرتاہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے، یعنی جس طرح حدیث شریف میں ہاتھ سے چھونے کو ہاتھ کا زنا قرار دیا ہے اور قدم سے چلنے کو قدموں کا زنا قرار دیا ہے، اسی طرح دل میں لائے گئے برے خیالات کو بھی زنا کا پیش خیمہ قرار دیا ہے، لہٰذا مطلقاً کسی بھی عورت (بیوی کے علاوہ) کے بارے میں غلط خیال لانا گناہ ہے۔

خصوصاً بیوی سے ہم بستری کرتے ہوئے دوسری عورت کا تصور کرنا گناہ ہونے کے ساتھ نعمتِ حلال کی ناشکری بھی ہے، بیوی سے صحبت کو از روئے فقہ زنا تو نہیں کہا جائے گا، لیکن اس خیال سے ہمبستری کرنے والے کو بعض علماء نے زنا کہا ہے، اس لیے اس خیال سے بیوی سے تعلق قائم کرنا بھی گناہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے نکاح کے اغراض و مقاصد میں اسے صاف الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ نکاح کا مقصد محض شہوت رانی نہ ہو، یعنی اگر کوئی محض شہوت رانی کی غرض سے نکاح کررہاہے (گویا اس نے نکاح کو آڑ بنایا، کیوں کہ نکاح کے بغیر اس کی شہوت پوری ہونا سماج میں مشکل ہے، لہٰذا صرف اس لیے نکاح کرلیا کہ اس عورت سے شہوت پوری کرنی ہے) عفت و پاک دامنی، توالد وتناسل، اور اللہ پاک کے حکم کی تعمیل اور اس خاتون کے حقوق کی ادائیگی وغیرہ اگر مقصود نہیں ہے تو ایسا نکاح بھی اسلامی نکاح کے اغراض ومقاصد سے مطابقت نہیں رکھتا۔

نیز اجنبی عورتوں سے  پردے کا اہتمام کریں اور اپنی نظروں کی حفاظت کریں تاکہ اپنی بیوی کے علاوہ کسی اجنبیہ کی طرف خیال اور تصورہی نہ ہو، اور اپنی بیوی کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ شرعی حدود میں رہ کر شوہر کے لیے بناؤ سنگھار اور زیب وزینت اختیار کرے تاکہ اس کی طرف رغبت اور میلان  پیدا ہو،بہرحال مذکورہ عذر کی بنا پر طلاق دینا جائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے: 

الثالث: ذكر بعض الشافعية أنه كما يحرم النظر لما لا يحل يحرم التفكر فيه لقوله تعالى - {ولا تتمنوا ما فضل الله به بعضكم على بعض} [النساء: 32]- فمنع من التمني كما منع من النظر، وذكر العلامة ابن حجر في التحفة أنه ليس منه ما لو وطئ حليلته متفكرا في محاسن أجنبية حتى خيل إليه أنه يطؤها، ونقل عن جماعة منهم الجلال السيوطي والتقي السبكي أنه يحل لحديث «إن الله تجاوز لأمتي ما حدثت به أنفسها» ولا يلزم من تخيله ذلك عزمه على الزنا بها، حتى يأثم إذا صمم على ذلك لو ظفر بها، وإنما اللازم فرض موطوءته تلك الحسناء، وقيل ينبغي كراهة ذلك ورد بأن الكراهة لا بد لها من دليل وقال ابن الحاج المالكي: إنه يحرم لأنه نوع من الزنا كما قال علماؤنا فيمن أخذ كوزا يشرب منه، فتصور بين عينيه أنه خمر فشربه أن ذلك الماء يصير حراما عليه اهـ ورد بأنه في غاية البعد ولا دليل عليه اهـ ملخصا ولم أر من تعرض للمسألة عندنا وإنما قال في الدرر: إذا شرب الماء وغيره من المباحات بلهو وطرب على هيئة الفسقة حرم اهـ والأقرب لقواعد مذهبنا عدم الحل، لأن تصور تلك الأجنبية بين يديه يطؤها فيه تصوير مباشرة المعصية على هيئتها، فهو نظير مسألة الشرب ثم رأيت صاحب تبيين المحارم من علمائنا نقل عبارة ابن الحاج المالكي، وأقرها.

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس، ج: 6، صفحہ: 370، ط: ایچ، ایم، سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308102207

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں