بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1445ھ 21 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ہم جنس پرستی والے عمل سے مذی نکل جائے


سوال

 ایک عورت چاہتے نہ چاہتے  ہوئے ہم جنسی میں ملوث ہے۔ کبھی گناہ سے بیزار ہو جاتی ہے اور کبھی بہک جاتی ہے اور دوسری عورت سے جنسی تعلق قائم کر لیتی ہے مگر معاملہ بوس و کنار تک ہی رہتا ہے، انزال تک نہیں جاتا۔ شدتِ جذبات کے سبب مذی خارج ہوتی ہے تو ایسے میں(ترک گناہ کی کوشش کے باوجود بھی یہ گناہ نہیں چھوٹ رہا، ایسے میں نمازیں کیسے ادا کرے) کیا فاعل اور مفعول وضو کر کے نماز پڑھ سکتے ہیں یا فعلِ بد کے سبب غسل فرض ہو جائے گا؟ یہ تو معلوم ہے کہ میاں بیوی یا ( مرد و عورت) کے بوس و کنار سے مذی  کے اخراج پر وضو کر لینا کافی ہوتا ہے مگر بات یہ ہے کہ مرد اور عورت کا فطری تعلق ہے اور ہم جنسی غیر فطری خباثت والا عمل ہے، تو ایسے میں مذی کے اخراج پر غسل اور وضو کا کیا حکم ہے؟ ۔2۔ نیز یہ بھی بتا دیں کہ کیا مذی صاف کر کے وضو کر لیا جائے، تو اسی وضو سے نماز پڑھ سکتے ہیں یا نماز کے لیے نیا وضو کرنا درکار ہو گا مثلاً وہ عورت ظہر سے پہلے مذی صاف کر کے وضو کر لے تو کیا اس ایک وضو سے ہی نماز صحیح ہو گی یا نہیں؟

جواب

ہم جنس پرستی  شرعاً ناجائز اور حرام ہے،اس سے بچنا  شرعا نہایت ضروری ہے ،اگراس  گناہ سے بچنا مشکل ہورہاہو تو چند اعمال کا اہتمام کریں:

(1)  شادی شدہ نہیں تو جلد از جلد نکاح کرلیں، اور شادی کے سلسلے میں معاشرے میں رائج اخراجات اگر نہیں برداشت کرسکتے تو سادگی کے ساتھ کسی متوسط یا غریب گھرانے میں شادی کرلیں، حدیثِ مبارک میں ہے کہ اس نکاح میں سب سے زیادہ برکت ہوتی ہے جس میں کم خرچ اور بوجھ ہو۔ 

(2)تنہائی میں وقت نہ گزاریں۔خصوصا جس کے ساتھ ملوث ہیں اس کام میں ان سے میل جول نہ کریں، دور رہیں ۔

(3) جب تک یہ عادت نہ چھوٹے روزانہ دو  رکعت  نفل توبہ و حاجت کی نیت سے پڑھ کر اللہ سے اس  گناہ سے چھٹکارے کی دعا مانگیں۔

(4) کثرت سے اس دعا  کا ورد کیا جائے:  "اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْئَلُكَ الْهُدٰى وَالتُّقٰى وَالْعَفَافَ وَالْغِنٰی"۔

   مذی ناپاک ہے۔ کپڑوں پر لگ جائے تو کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں، کپڑوں اور جسم میں سے  جس جگہ مذی لگی ہو اسے دھو کر پاک کرنا ضروری ہے، اس کو دھوئے بغیر نماز جائز نہیں۔ اور جب جسم سے نکلے چاہے شہوت کے وقت نکلے یا شہوت کے بعد نکلے یا بلاشہوت نکل  جائے، اس کے نکلنے سے صرف وضو ٹوٹ جاتا ہے غسل فرض نہیں ہوتا۔البتہ اگر منی خارج ہو تو غسل فرض ہوگا، ہم جنس پرستی والے عمل سے نکلنے کی صورت میں یہی حکم ہے۔

2۔اسی وضو سے نماز پڑھ سکتے ہیں جب تک کوئی ناقض وضو کا عمل پیش نہ آئے۔

فتاوى هنديه  میں ہے:

"المذي ينقض الوضوء."

(الفتاوى الهندية: كتاب الطهارة،الباب الأول في الوضوء،  الفصل الخامس في نواقض الوضوء (1/ 10)،ط. رشيديه،كوئته باكستان)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144410100237

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں