بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

ہم جنس پرستی کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آیا ہم جنس پرستی اسلام میں جائز ہے یا ناجائز ہے؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ اللہ تعالی  نے  انسان میں جنسی خواش رکھی اور اس کو پورا کرنے کا طریقہ بھی بتایا ہے یعنی مرد  عورت ایک دوسرے سے نکاح کرکے  ایک دوسرے سے جنسی تسکین حاصل کریں  اور اپنی  زندگی پاک دامنی کےساتھ گزاریں بلکہ اللہ تعالی نے اس نکاح کو باعث اجر بنایا ہے اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے  اس کو نصف دین کی تکمیل بتایا ہے  ۔ اللہ تعالی نے   اس کے علاوہ ہر قسم کے   غیر شرعی طریقہ کو حرام قرار دیا ہے اور آخرت کے سخت عذاب کا مستوجب قرار دیا ہے اورجنسی تسکین کے  غیر شرعی طریقوں  پر شریعت میں  دنیاوی سزائیں (حدود اور تعزیرات) بھی متعین ہیں ۔

پس ہم جنس پرستی  جنسی خواہش کے پورا کرنے کا غیر شرعی اور غیر فطری طریقہ ہے، اسی گناہ کی بناء پر لوط علیہ السلام کی قوم کو اللہ تعالی نے سخت عذاب دیا تھا اور شریعت میں بھی ہم جنس سے استمتاع کرنے والے کے لیے سخت سزا متعین کی گئی ہے لہذا ہم جنس پرستی سخت حرام اور بہت بڑا گناہ ہے اس کے کامل اجنتاب کرنا ضروری اور لازم ہے۔

تفسير القرطبي  میں ہے:

"ولوطا إذ قال لقومه أتأتون الفاحشة ما سبقكم بها من أحد من العالمين (80).

فيه أربع مسائل... الثانية- قوله تعالى: (أتأتون الفاحشة) يعني إتيان الذكور. ذكرها الله باسم الفاحشة ليبين أنها زنى، كما قال الله تعالى:" ولا تقربوا الزنى إنه كان فاحشة «2» ". واختلف العلماء فيما يجب على من فعل ذلك بعد إجماعهم على تحريمه، فقال مالك: يرجم، أحصن أو لم يحصن. وكذلك يرجم المفعول به إن كان محتلما. وروي عنه أيضا: يرجم إن كان محصنا، ويحبس ويؤدب إن كان غير محصن. وهو مذهب عطاء والنخعي وابن المسيب وغيرهم. وقال أبو حنيفة: يعزر المحصن وغيره، وروي عن مالك. وقال الشافعي: يحد حد الزنى قياسا عليه. احتج مالك بقول تعالى:" وأمطرنا عليهم حجارة من سجيل". فكان ذلك عقوبة لهم وجزاء على فعلهم. فإن قيل: لا حجة فيها لوجهين، أحدهما- أن قوم لوط إنما عوقبوا على الكفر والتكذيب كسائر الأمم. الثاني- أن صغيرهم وكبيرهم دخل فيها، فدل على خروجها من باب الحدود. قيل: أما الأول فغلط، فإن الله سبحانه أخبر عنهم أنهم كانوا على معاصي فأخذهم بها، منها هذه. وأما الثاني فكان منهم فاعل وكان منهم راض، فعوقب الجميع لسكوت الجماهير عليه. وهي حكمة الله وسنته في عباده."

(سورہ اعراف ج آیت نمبر ۸۰، ج نمبر ۷ ص نمبر ۲۴۲،دار الکتب المصریۃ)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"وعن ابن عباس وأبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ملعون من عمل عمل قوم لوط» . رواه رزين وفي رواية له عن ابن عباس أن عليا أحرقهما وأبا بكر هدم عليهما حائطا وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا ينظر الله عز وجل إلى رجل أتى رجلا أو امرأة في دبرها» . رواه الترمذي وقال: هذا حديث حسن غريب.

(«ملعون من عمل عمل قوم لوط» . رواه رزين) وفي الجامع الصغير: «ملعون من سب أباه ملعون من سب أمه، ملعون من ذبح لغير الله، ملعون من غير تخوم الأرض، ملعون من كمه أعمى عن طريق، ملعون من وقع على بهيمة، ملعون من عمل بعمل قوم لوط» . رواه أحمد بسند حسن عن ابن عباس."

(کتاب الحدود ،ج نمبر ۶ ص نمبر  ۲۳۵۱،دار الفکر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولو وطئ امرأة في دبرها أو لاط بغلام لم يحد عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - ويعزر ويودع في السجن حتى يتوب وعندهما يحد حد الزنا فيجلد إن لم يكن محصنا ويرجم إن كان محصنا، ولو فعل هذا بعبده أو أمته أو بزوجته بنكاح صحيح أو فاسد لا يحد إجماعا كذا في الكافي.ولو اعتاد اللواطة قتله الإمام محصنا كان أو غير محصن كذا في فتح القدير".

(کتاب الحدود، باب رابع، ج نمبر ۲ ص نمبر ۱۵۰،دار الفکر)

فقط وللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309100359

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں