بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

حکومت کی طرف سے ملنے والے فنڈ کا حکم


سوال

 میرے بڑے بھائی فرنٹیئر کور ( F . C) میں نائب صوبیدار کے عہدے پر فائز تھے۔ان کی شہادت (2022-03-21) کو ہوئی۔ بھائی کے ورثاء میں والدہ ، بیوہ ، تین بھائی اور دو بہنیں شامل ہیں ۔ والدہ زندہ حیات ہیں اور اپنے شہید بیٹے کی شہادت پر بڑے کر بناک اور دردناک حالت میں ہیں ۔ حکومت پاکستان کی طرف سے شہداء کو کچھ فنڈ مالی امداد، انعامات اور پینشن دی جاتی ہیں ۔ان کے بارے میں میرے کچھ سوالات ہیں ۔ براۓ کرم شریعت کی رو سے تفصیلی راہنمائی فرمائیں ۔ ١- بھائی کی شہادت کے بعد حکومت پاکستان میرے بھائی کی تنخواہ ان کی بیوی کے نام پر بھیجتی  ہے  جو کہ 2024 تک اسی طرح سے جاری رہے گی لیکن میرے بھائی کی کوئی اولا نہیں ہے اور میری بھابھی میرے بھائی کی پانچ سال منکوحہ رہی ہے ۔ کیا تنخواہ بیوہ کولینی  چاہیے یا اس میں شہید کی ماں کا حصہ بھی ہے جو کہ زندہ حیات ہے ۔ -2 حکومت پاکستان کی طرف سے امداد براۓ ادائیگی شہداء کے تحت کچھ رقم ادا کرے گی۔ اس رقم کی تفصیلات لف ہیں ۔  امداد بھی بیوہ کے نام حکومت جاری کر رہی ہے۔ کیا اس مالی امداد میں بھی والدہ جو کہ زندہ حیات ہے کا حصہ بنتا ہے یا نہیں ۔ اور باقی ورثاء کے حصے کے بارے میں تفصیلی راہنمائی فرمائیں۔ -3 شہید کو بہادری کی وجہ سے کچھ نقد انعامات اور تمغہ دیا جا تا ہے جو حکومت پاکستان بیوہ کے نام پر جاری کرتا ہے ۔ کیا ان نقد انعامات اور تمغہ میں والدہ کا حصہ بنتا ہے یا نہیں اور باقی ورثاء کے بارے میں تفصیلی راہنمائی فرمائیں۔ -4 ۔ اگر بیوہ کے بچے ہوتے تو ان کی کفالت اورتعلیمی اخراجات اس پیکیج سے ہونا تھا چونکہ بیوہ کی کوئی اولا نہیں ہے اگر یہ بیوہ دوسری جگہ شادی کرے تو اس پیکیج سے اس کا دوسرا شوہر مستفید ہوتا رہے گا۔ کیونکہ شوہر اور بیوی کا ایک ہی معاملہ ہوتا ہے تو اس صورت میں اس کی ماں کی کیا پوزیشن ہوگی جو کہ اپنے بیٹے کی شہادت سے کر بناک اور دردناک حالت میں ہے اور باقی ورثاء کی کیا پوزیشن ہوگی ۔ 5 ۔ بیوہ کی عدت مکمل ہوگئی ہے اگر وہ اپنے وہ اپنے والدین کے گھر رہنا چاہتی ہے تو حق مہر اور شرائط نکاح کا مطالبہ کرسکتی ہے  کہ نہیں ؟

جواب

1۔کسی شخص کی وفات کے بعد متعلقہ ادارے یا حکومت کی طرف سےجو مختلف قسم کے فنڈ زجاری ہوتے ہیں،مثلاً پنشن،گریجویٹی فنڈ،بینوولنٹ فنڈ،جی پی فنڈاورپراویڈنٹ فنڈوغیرہ،ان کے عطیہ اور ترکہ ہونے کے بارے میں شرعی ضابطہ یہ ہے کہ جو مال بوقتِ وفات میت کی ملکیت میں داخل ہو،جیسے کہ جی پی فنڈاورپراویڈنٹ فنڈوغیرہ،وہ ترکہ میں شمار ہوگااور جو مال بوقتِ وفات میت کی ملکیت میں نہ ہو،بلکہ اس کی وفات بعد حکومت یا متعلقہ ادارے کی طرف سے اس کے ورثاء میں سے کسی کے نام پرجاری کیا جائے،جیسے کہ گریجویٹی فنڈ،بینوولنٹ فنڈ اور پنشن وغیرہ تو وہ ترکہ شمار نہ ہوگا،بلکہ جس کے نام پر جاری ہوگا،اسی کی ملکیت ہوگا؛لھذا صورت مسئولہ میں  حکومت کی طرف سے  آپ کے مرحوم بھائی  کی شہادت کے بعد جو تن خواہ  ان کی بیوہ کے نام پر جاری ہے وہ بیوہ کا حق ہے اس میں کسی اور شرعا حق نہیں اور جو ان کی شہادت سے پہلے کی تن خواہ یا فنڈ ہیں یا اور کوئی ان کی ملکیت میں چیزیں ہیں اس میں شرعی ضابطہ کے مطابق وراثت جاری ہوگی۔

(2،3،4)۔حکومت  کی طرف سے امداد براۓ ادائیگی شہداء یا بہادری کی وجہ سے کچھ نقد انعامات اور تمغہ   دیا جاتا ہے یہ سب چیزیں ادارے کی طرف سے انعام ہوتا ہے،اور انعام  اسی کا ہوتا ہے جسے دینے والا دیتا ہے ؛ اس لیے یہ فنڈز ان ہی کے  ہوں گے جن کو ادارہ نامزد کرے گا،کسی اور کا اس میں حق نہیں ہوگا،لھذا اگر حکومت یہ بیوہ کے نام پر جاری کرتی ہےتو یہ بیوہ کاحق ہے کوئی اور وارث شرعا اس میں حصہ دار نہیں۔

5۔صورت مسئولہ میں حق مہر بیوی کا حق ہے ،اگر شوہر نے زندگی میں ادا نہیں کیا تو وفات کے بعد عورت  اپنے حق  مہر کا مطالبہ  کرسکتی ہے۔باقی شرائط نکاح کے بارے میں جواب اس کی  تفصیل جاننے کے بعد دیا جاسکتا ہے۔

امداد الفتاوی میں ہے:

’’چوں کہ میراث مملوکہ اموال میں جاری ہوتی ہے اور یہ وظیفہ محض تبرع واحسانِ سرکار ہے، بدون قبضہ کے مملوک نہیں ہوتا، لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں میراث جاری نہیں ہوگی، سرکار کو اختیار ہے جس طرح چاہیں تقسیم کردے۔‘‘

(4/343، کتاب الفرائض، عنوان: عدم جریان میراث در وظیفہ سرکاری تنخواہ، ط: دارالعلوم)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144410101178

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں