بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 رجب 1442ھ 09 مارچ 2021 ء

دارالافتاء

 

حکومتی صحت کارڈ استعمال کرنے کا حکم


سوال

صحت کارڈ کے متعلق بتائیں، کیا یہ جائز ہے ؟ ہم غریب ہیں، حکومت کی طرف سے ایک آدمی کو صحت کارڈ کی وجہ سے ایک سال مفت علاج کی سہولت ہے۔ جو پیسے ہم اس کے جمع کرائیں گے وہ اسٹیٹ بینک جائیں گے اور اس پر سود لگے گا، ہم نے ایسا سنا ہے۔

جواب

ہماری معلومات کے مطابق حکومت سے جاری شدہ صحت کارڈ  (صحت انصاف کارڈ)  ایسے افراد کو فراہم کیا جاتا ہے جو  حکومت کے مقرر کردہ ایک خاص معیار کے مطابق اس کارڈ کے مستحق ٹھہرتے  ہوں، اُن افراد سے اس کارڈ کی کوئی فیس بھی نہیں لی جاتی، بلکہ حکومت خود عوام کی طرف سے  اس کارڈ کی رقم جمع کراتی ہے، پھر مریض اس کارڈ کے ذریعہ کسی سرکاری یا نجی ہسپتال میں اپنا علاج کرواتا ہے، یہ بات بھی معلوم ہو کہ حکومت اس کارڈ کی مد میں بہت تھوڑی رقم جمع کرواتی ہے، جب کہ مریض کے اخراجات زیادہ ہوتے ہیں اور وہ زائد رقم انشورنس کمپنی ادا کرتی ہے۔

مذکورہ تفصیل کی رو سے حاملِ کارڈ کے لیے اس کارڈ کے ذریعہ صرف اُسی قدر رقم کے بقدر سہولیات حاصل کرنا جائز ہو گا  جتنی رقم اُس کی طرف سے حکومت نے جمع کروائی ہے، اس سے زائد جو رقم انشورنس کمپنی کی طرف سے ادا کی جاتی ہے، اُس سے استفادہ کرنا اور اس کے ذریعہ علاج کروانا جائز نہیں۔

البتہ اگر کوئی شخص مستحقِ زکاۃ ہو تو وہ اس کارڈ سے علاج کی سہولت حاصل کر سکتا ہے؛ اس لیے کہ مذکورہ سودی معاہدہ حکومت کا ہے اور اس میں مستحق شخص بلاواسطہ شامل نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207200064

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں