بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1444ھ 07 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

حکومت سے مکان بنانے کے لیے قرض لینا


سوال

سود لینا کن حالات میں جائز ہے؟ ابھی حکومت گھر بنانے کے لیے قرض دے رہی ہے، جس میں بیس فیصد پیسے حکومت اپنی طرف سے ادا کرے گی اور  باقی قرضہ لینے والا ادا کرے گا!

جواب

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر سود کی حرمت کو بیان فرمایا ہے، اس لیے سود لینا حرامِ قطعی ہے، اگر کوئی شخص سود لیتا ہے تو وہ سخت گناہ گار ہو گا۔

اگر حکومت گھر بنانے کے لیے قرض فراہم کرتی ہے اور اپنی طرف سے مقروض کی طرف سے کچھ حصہ ادا کرتی ہے تو اس صورت میں بھی قرض لینا محض اُسی صورت میں جائز ہو گا  جب حکومت قرض دی ہوئی رقم پر کوئی اضافی رقم وصول نہ کرے، اور اس معاملے میں کہیں بھی سودی یا ناجائز معاہدہ نہ ہو۔ اگر حکومت قرض دی ہوئی رقم پر کچھ اضافی رقم وصول کرتی ہے تو ایسا قرضہ لینا جائز نہیں ہو گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203201492

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں