بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

حکومت کی طرف سے بھیجے گئے حج معاون کا نفلی حج ادا کرنا


سوال

حکومتِ پاکستان کو حج کے  لیے معاونین درکار ہیں، اگر کوئی شخص جس پر حج فرض نہ ہو، وہ بطورِ معاون چلا جائے اور حج کر آئے، تو کیا یہ جائز ہے؟ کیوں کہ یہ تعین کرنا مشکل ہوگا کہ مقصد معاونت ہے یا حج۔

جواب

 صورتِ مسئولہ میں اگر حکومت  مذکورہ شخص کو حج ادا کرنے کی اجازت دے دے اوروہ   حج اداکرے، تواس  کا حج ادا ہوجائے گا ۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ‌ولا ‌أن ‌يصلي ‌النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى. وفي غريب الرواية قال أبو علي الدقاق: لا يمنع في المصر من إتيان الجمعة، ويسقط من الأجير بقدر اشتغاله إن كان بعيدا، وإن قريبا لم يحط شيء فإن كان بعيدا واشتغل قدر ربع النهار يحط عنه ربع الأجرة."

(كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، مطلب ليس للأجير الخاص أن يصلي النافلة، ٦/ ٧٠، ط: سعيد)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیہ میں ہے:

"ویجب علی الأجیر الخاص أن یقوم بالعمل في الوقت المحدد له أو المتعارف علیه،ولا یمنع هذا من أدائه المفروض علیه من صلاۃ و صوم، بدون إذن المستأجر، وقیل إن له أن یؤدي السنّة أیضًا، وأنه لا یمنع من صلاة الجمعة والعیدین، دون أن ینقص المستأجر من أجرہ شیئًا إن کان المسجد قریبًا.

ولیس للأجیر الخاص أن یعمل لغیر مستأجرہ إلا بإذنه، وإلا نقص من أجرہ بقدر ما عمل ولو عمل لغیرہ مجانًا أسقط رب العمل من أجرہ بقدر قیمة ما عمل."

(المطلب الأول الأجیر الخاص، ١/ ٢٩٠، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144507101760

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں