بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

حکومت کی تحویل میں پھنسے ہوئے اموالِ تجارت میں زکاۃ کا حکم


سوال

ہمارے رشتہ دار سولر شمسی کے کاروبار کرتے ہیں، کئی سالوں سے چائنہ سے مال خرید کر پاکستان یا افغانستان لاکر فروخت کرتے تھے، لیکن اب پچھلے ایک سال یا کم و بیش سے حکومت پاکستان کی طرف سے سارے لوگوں کے اموال  کراچی میں  پھنسائے گئے ہیں، جس کی وجہ سے بڑے بڑے کاروباری حضرات کا مکمل سرمایہ وہاں کراچی میں پھنسا ہوا  ہے، حتی کہ بعض لوگوں کے ساتھ تو گھر کا خرچہ بھی نہیں رہا، اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا جن لوگوں کا مال وغیرہ جتنے عرصہ  سے کراچی میں پھنسا ہوا ہے اسی مدّت   میں  وہی پھنسے ہوئے مال کی  زکاۃ  ان پر واجب ہے یا نہیں؟ واضح رہے کہ مذکورہ پھنسا ہوا مال کا حکومت پاکستان کی طرف سے دوبارہ کھولنے (واپس کرنے) اور واپس نہ کرنے دونوں کے چانسز ہیں، البتہ اکثر امید یہی ہے کہ انہی کاروباری لوگوں کا مال واپس ان کو مل جائے، جن میں بعض کو مل بھی گیا ہے۔ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ اموال جب تک تاجروں کے قبضے میں نہ آئے اس وقت تک ان پر زکاۃ واجب نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ  میں ہے:

"الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية."

(کتاب الزکوۃ ،باب ثالث فصل ثانی، ج:1، ص:179، ط:رشیدیہ)

بدائع الصنائع میں ہے:

"فلا تجب الزكاة في المال الضمار عندنا خلافا لهما.

وتفسير ‌مال ‌الضمار هو كل مال غير مقدور الانتفاع به مع قيام أصل الملك كالعبد الآبق والضال، والمال المفقود، والمال الساقط في البحر، والمال الذي أخذه السلطان مصادرة."

(كتاب الزكوة،فصل الشرائط التي ترجع الي المال،ج:2،ص:9،ط:دارالكتب العلميه)

المحیط البرھانی میں ہے:

"ومال الضمار كل مال بقي أصله في ملكه، ولكن زال عن يده زوالا يرجى عوده في الغالب، والأصل فيه أثر علي رضي الله عنه: لا زكاة في ‌مال ‌الضمار."

(كتاب الزكوة،ج:2،ص:309،ط:دارالكتب العلميه)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144506102285

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں