بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

حکومت کے اعلان کی وجہ سے 29 روزے ہوئے


سوال

حکومت کے بے وقت اعلان کی وجہ سے ہمارے 29روزے پورے ہوئے ، اب کیاایک روزہ کی قضارکھیں یا کیا کریں ؟

جواب

  کسی علاقے میں کوئی قاضی یا حکومت کی طرف سے مقرر کردہ  کمیٹی پورے  ضلع یا صوبے  یا پورے ملک  کے لیے ہو  اور وہ شرعی شہادت  موصول ہونے پر  چاند نظر آنے کا اعلان کردے تو اس کے فیصلے پر اپنی حدود اور ولایت میں  ان لوگوں پرجن تک فیصلہ اور اعلان یقینی اور معتبر ذریعے سے پہنچ جائے  عمل  کرنا واجب ہوگا،  چوں کہ  مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی  قاضی شرعی کی  حیثیت    رکھتی ہے، لہذا شہادت موصول ہونے پر اگر وہ اعلان کردے تو ملک میں  جن لوگوں تک یہ اعلان    معتبر ذرائع سے پہنچ جائے ، ان پر روزہ رکھنا یا عید کرنا لازم ہوگا۔لھذا مسئولہ صورت میں  اگر حکومت کے یا حکومت کی مقرر کردہ کمیٹی کے  اعلان کے مطابق روزے 29 ہوئے تو اب کسی روزے کے قضا کی ضرورت نہیں ،رمضان کا مہینہ دیگر مہینوں کی طرح 29 اور 30 دونوں  کا احتمال رکھتا ہے اور ہم حکومت کی جانب سے جاری شدہ اعلان کے  پابند ہیں۔

البتہ اگر  حکومت کے بے وقت اعلان کا مقصد یہ ہے کہ حکومت نے  دیر سے اعلان کیا جس کی وجہ سے کچھ لوگ ایک رو زہ نہ رکھ پائے،حکومتی اعلان کے مطابق باقی لوگوں کے 30 روزے ہوئے  تو جن کا ایک روزہ رہ گیا  ان پر ایک روزے کی قضا لازم ہے۔

         نیل الأوطار میں ہے:

"وثانيها: أنه لايلزم أهل بلد رؤية غيرهم إلا أن يثبت ذلك عند الإمام الأعظم فيلزم كلهم؛ لأن البلاد في حقه كالبلد الواحد إذ حكمه نافذ في الجميع، قاله ابن الماجشون".

(4 / 230، باب الهلال إذا رآه أهل بلدة هل يلزم بقية البلاد الصوم، ط؛ دار الحديث، مصر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403102226

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں