بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

حفاظ کرام کے لیے بغیر وضوء کے قرآن چھونے اور پڑھنے کا حکم


سوال

کسی زمانے میں جب کتابوں کا مطالعہ رہتا تھا تو کسی کتاب میں (اب یاد نہیں کہ کونسی کتاب میں ) پڑھا تھا کہ حفاظ کے لیے بغیر وضو قرآن مجید کو چھونا اور پڑھنا جائز ہے، آیا یہ صحیح ہے یا نہیں؟ راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

قرآن مجید کو چھونے کے لیے وضو کرنا ضروری ہے، حفاظ کرام کے لیے بھی وضو کےبغیر قرآن کو چھوناجائز نہیں ہے، البتہ چھونے کے بغیرپڑھناجائز ہے، البتہ نابالغ بچوں کے لئےوضوء کا حکم لازم نہیں ہے۔

ارشادِ باری تعالی ہے:

"لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ (79)."

"ترجمہ:کہ اس کو بجز پاک فرشتوں کے کوئی ہاتھ نہیں لگانے پاتا۔"(بیان القرآن)

سنن کبری للبیہقی میں ہے:

"عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن أبيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم، ‌أنه ‌كتب ‌إلى ‌أهل اليمن بكتاب فيه الفرائض والسنن والديات، وبعث به مع عمرو بن حزم، فذكر الحديث، وفيه: " ولا يمس القرآن إلا طاهرا ."

(كتاب الطهارة، باب نهي المحدث عن مس القرآن، ج:1، ص:141، ط:دار الكتب العلمية، بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولا) يكره (مس صبي لمصحف ولوح) ولا بأس بدفعه إليه وطلبه منه للضرورة إذ الحفظ في الصغر كالنقش في الحجر.

(قوله: ولا يكره مس صبي إلخ) فيه أن الصبي غير مكلف والظاهر أن المراد لا يكره لوليه أن يتركه يمس، بخلاف ما لو رآه يشرب خمرا مثلا فإنه لا يحل له تركه،(قوله: ولا بأس بدفعه إليه) أي لا بأس بأن يدفع البالغ المتطهر المصحف إلى الصبي، ولا يتوهم جوازه مع وجود حدث البالغ،(قوله: للضرورة) لأن في تكليف الصبيان وأمرهم بالوضوء حرجا بهم، وفي تأخيره إلى البلوغ تقليل حفظ القرآن درر قال ط وكلامهم يقتضي منع الدفع والطلب من الصبي إذ لم يكن معلما."

(کتاب الطھارۃ، سنن الغسل، ج:1، ص:174، ط:سعید)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144404101037

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں