بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

آدھی کمائی حرام ہو تو اجتماعی قربانی میں حصہ خریدنا/ پھینکی گئی کھال کو بیچ کر اپنے استعمال میں لانے کا حکم


سوال

1: اگر کوئی شخص قربانی میں پچاس فیصد حلال کمائی لگاتا ہے اور پچاس فیصد حرام لگاتا ہے تو کیا اس کی قربانی درست ہے؟

2:اور کیا وہ جانور میں حصہ لے سکتا ہے؟

3: بعض جگہوں پر لوگ قربانی کی کھال کو کوڑے پر پھینک دیتے ہیں تو اگر کوئی شخص کوڑے سے اٹھاکر بیچ دے تو کیا اس کا یہ عمل درست ہوگا؟

جواب

1:بصورتِ مسئولہ قربانی کا  مکمل جانور حلال کمائی  سے خریدنا لازم ہے،  حرام کی کمائی سے قربانی کرنا جائز نہیں ہے اور نہ  ہی یہ عنداللہ مقبول ہے، کیوں کہ  اللہ تعالیٰ طیب ہیں اور مالِ طیب سے ہی صدقہ اور عبادت قبول فرماتے ہیں۔    لہذا نصف رقم حلال اور نصف رقم حرام سے قربانی کرنا جائز نہیں ،پوری رقم کا حلال ہونا ضروری ہے ۔

2: حرام کمائی والا اگر اجتماعی قربانی کے حصے  میں حرام کی  کمائی بھی شامل کرتا  ہےتو اس کے  لیے قربانی حصہ لینا جائز نہیں ہے، اگر اس نے ایسا کیا تو   اس کی وجہ سے دیگر افراد کی قربانی بھی نہیں  ہوگی،اور یہ شخص گناہ گار ہوگا ۔ البتہ  اگر ایسے شخص نےحرام رقم بتلائے بغیر خالص حلال رقم ظاہر کرکے قربانی میں شرکت کی یا صرف حلال آمدن سے قربانی میں حصہ لیا تو  باقی ماندہ افراد کی قربانی درست ہوجائےگی۔

3: قربانی کی کھال اپنے استعمال میں لانا یا کسی کو ہدیہ دینا یا اس کو فروخت کرکے قیمت مستحقِ زکوۃ  کو دینا ضروری ہے، اس کو کچرے کے ڈھیر پر پھینک کر ضائع کرنا ناجائز ہے، تاہم اگر کسی نے قربانی کی کھال کوڑے میں  پھینک دی ہو   تو اٹھانے والا (اگر وہ غریب مستحقِّ زکوۃ ہے) اس کو استعمال میں لاسکتا ہے،آگے فروخت بھی کرسکتاہے۔بہرحال دلالتًا  اجازت کی وجہ سے ایسی کھال اٹھانا اورفروخت کرنا جائز ہے۔

فتاوی شامی (الفتاوى الهندية ) میں ہے:

"و إن كان كل واحد منهم صبيًّا أو كان شريك السبع من يريد اللحم أو كان نصرانيًّا و نحو ذلك لايجوز للآخرين أيضًا، كذا في السراجية.

ولو كان أحد الشركاء ذميًّا كتابيًّا أو غير كتابي وهو يريد اللحم أو يريد القربة في دينه لم يجزئهم عندنا؛ لأن الكافر لايتحقق منه القربة، فكانت نيته ملحقة بالعدم، فكأن يريد اللحم والمسلم لو أراد اللحم لا يجوز عندنا، وكذلك إذا كان أحدهم عبدا أو مدبرا ويريد أضحية، كذا في البدائع".

(کتاب الاضحیۃ، الباب الثامن فيما يتعلق بالشركة في الضحايا، ج:5، ص:304، ط:مکتبہ رشیدیہ)

بذل المجهود في حل سنن أبي داود  میں ہے:

"جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: "رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِى الْعَصَا وَالْحَبْلِ وَالسَّوْطِ وَأَشْبَاهِهِ: يَلْتَقِطُهُ الرَّجُلُ يَنْتَفِعُ بِهِ". 

( عن جابر بن عبد الله قال: رخص لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في العصا) بالقصر (والحبل والسوط وأشباهه) أي من الأشياء التافهة ما يُعَدُّ يسيرًا (يلتقطه الرجل ينتفع به) أي الحكم فيها أن ينتفع الملتقط به إذا كان فقيرًا من غير تعريف سنة، أو مطلقًا.

قال السرخسي في "مبسوطه": ثم ما يجده نوعان: أحدهما: ما يعلم أن مالكه لا يطلبه كقشور الرمان والنوى، والثاني: ما يعلم أن مالكه يطلبه، فالنوع الأول له أن يأخذه وينتفع به،وأما النوع الثاني فهو ما يعلم أن صاحبه يطلبه، فمن يرفعه فعليه أن يحفظه ويعرِّفه ليوصله إلى صاحبه، انتهى ملخصًا.

قلت: فالعصا والسوط والحبل إن كان بحيث تدخل في الأشياء التافهة التي لا يطلبها المالك فحكمها أنه لا يجب تعريفها، ويجوز الانتفاع بها للملتقط، وإن كان من النوع الثاني فلا يجوز الانتفاع بها، ويجب تعريفها على حسب قيمتها.

(كتاب اللقطة، ج:6، ص:610، ط:مركز النخب العلمية)

البناية شرح الهداية  میں ہے:

"فلو باع الجلد، أو اللحم بالدراهم، أو بما لا ينتفع به إلا بعد استهلاكه تصدق بثمنه؛ لأن القربة انتقلت إلى بدله، وقوله - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ -: «من باع جلد أضحيته فلا أضحية له» . يفيد كراهة البيع. أما البيع فجائز لقيام الملك والقدرة على التسليم.

أي المعنى في اشتراء ما لا ينتفع به إلا بعد استهلاكه، أنه تصرف على قصد التمول، وهو قد خرج عن جهة التمول، فإذا تمولته بالبيع وجب التصدق؛ لأن هذا الثمن حصل بفعل مكروه، فيكون خبيثا فيجب التصدق".

(کتاب الاضحیۃ، الأكل من الأضحية، ج:12، ص:55، ط:دارالکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212200539

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں