بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شعبان 1445ھ 28 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

ہاؤس مورگیج (mortgage) پر لیے ہوئے مکان کی قسطیں واجب الادا ہونے کی صورت میں زکاۃ کے وجوب کا حکم


سوال

 میں امریکا میں رہتا ہوں، ایک بندہ صاحبِ نصاب ہے، لیکن اس نے گھر بنک سے قرض (Mortgage) پر لیا ہے، جس کی قسطیں پندرہ، بیس سالوں تک دینی ہیں۔ کیا ایسے شخص پر زکاۃ آئے گی؟

جواب

اصل سوال کے جواب سے قبل  house mortgage کا شرعی حکم ملاحظہ فرمائیں:

 ہاؤس مورگیج (mortgage) ایک سودی قرضہ ہے، جو  مالیاتی ادارے  گھر خریدنے میں تعاون کے لیے دیتے ہیں، اور اس پر سود وصول کرتے ہیں، اس کا لین دین جائز نہیں ہے،  نیز ذاتی مکان خریدنا اضطراری ضرورت نہیں ہے، بلکہ کرایہ وغیرہ پر رہ کر، یا کسی سے قرض لے کر بھی یہ ضرورت پوری کی جاسکتی ہے، دوسری طرف سود کا معاملہ انتہائی خطرناک ہے، سود کا معاملہ کرنے والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان ہے، بے شمار قرآنی آیات اوراحادیث میں اس کی شناعت اور قباحت ذکر ہوئی ہے، لہذا امریکا یا کسی بھی ملک  میں ہاؤس مورگیج کے ذریعے گھر خریدنا جائز نہیں ہے۔ جلد از اس معاملہ کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اعلاء السنن میں ہے:

"قال ابن المنذر: أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادةً أو هديةً، فأسلف علی ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا".

(14/513، باب کل قرض جر  منفعۃ، کتاب الحوالہ، ط؛ ادارۃ القرآن) 

باقی زکاۃ سے متعلق حکم یہ ہے کہ مکان کی   واجب الادا اقساط میں سے جن قسطوں کی ادائیگی زکاۃ کے رواں سال میں واجب ہوگئی تھی وہ رقم منہا کرنے کے بعد  بھی اگر مذکورہ شخص کے پاس نصاب کے بقدر (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زیادہ) رقم موجود ہو تو اس پر زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201200652

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں