بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1442ھ 04 اگست 2021 ء

دارالافتاء

 

انگلینڈ میں ہاؤس موڈگیج (mortgage) کے ذریعے گھر خریدنا / اجتہاد کیا ہے؟


سوال

1- انگلینڈ میں مورگیج کے ذریعے گھر لینا کیسا ہے؟

2-  اجتہاد کیا ہے؟

جواب

1- ہاؤس موڈگیج (mortgage) ایک سودی قرضہ ہے، جو  مالیاتی ادارے  گھر خریدنے میں تعاون کے لیے دیتے ہیں، اور اس پر سود وصول کرتے ہیں، اس کا لین دین جائز نہیں ہے،  نیز ذاتی مکان خریدنا اضطراری ضرورت نہیں ہے، بلکہ کرایہ وغیرہ پر رہ کر، یا کسی سے قرض لے کر بھی یہ ضرورت پوری کی جاسکتی ہے، دوسری طرف سود کا معاملہ انتہائی خطرناک ہے، سود کا معاملہ کرنے والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان ہے، بے شمار قرآنی آیات اوراحادیث میں اس کی شناعت اور قباحت ذکر ہوئی ہے، لہذا انگلینڈ  میں ہاؤس موڈگیج کے ذریعے گھر خریدنا جائز نہیں ہے۔

اعلاء السنن میں ہے:

"قال ابن المنذر: أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادةً أو هديةً، فأسلف علی ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا".

(14/513، باب کل قرض جر  منفعۃ، کتاب الحوالہ، ط؛ ادارۃ القرآن) 

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتوی ملاحظہ فرمائیں:

یورپ میں بینک سے لون لے کر گھر خریدنا

۲۔۔     واضح رہے کہ اجتہاد کی ضرورت تب ہوتی ہے جب کوئی ایسا مسئلہ درپیش ہو جس کے متعلق دلائل اربعہ، کتاب اللہ، سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم،اجماع اور قیاس میں سے کسی میں کوئی واضح دلیل وثبوت موجود نہ ہو۔ ایسے حالات میں دلائل اربعہ کے اصول وکلیات پر نظر دقیق سے غور و خوض کرکے بذریعہ اجتہاد اس مسئلہ کا حل نکالا جائے۔ یہ عظیم کام وہی آدمی انجام دے سکتا ہے جس کو احکام شرع اور دلائل اربعہ پر پوری طرح عبور حاصل ہو۔
    باقی جن مسائل کے متعلق نصوصِ شرعیہ موجود ہوں ان کے متعلق نصوصِ شرعیہ کو پس پشت ڈال کر ذاتی رائے قائم کرنا دین میں دخل اندازی ہے جس کی شرعاً کوئی گنجائش نہیں۔

اور سود کی حرمت سے متعلق واضح نصوص موجود ہیں،  لہذا اس میں اجتہاد کی گنجائش نہیں۔
صاحب ’’عقد الجید ‘‘اجتہاد کے متعلق لکھتے ہیں :
    استفراغ الجهد في إدراك الأحكام الشرعیة الفرعیة عن أدلتها التفصیلیة الراجعة كلیاتها إلى أربعة اقسام الكتاب والسنة والإجماع والقیاس۔

 ( عقد الجید -الشاہ ولی اﷲ الدھلوی مترجم مولانا ساجد الرحمٰن صدیقی کاند ھلوی، باب فی بیان حقیقۃ الاجتھاد-ص۸-ط: قرآن محل کراچی ۱۳۷۹ھ۔ )
   یعنی  ’’اجتہاد کہتے ہیں احکام شرعیہ کے فروعی مسائل کے ادراک میں اس کے تفصیلی دلائل کی جستجو کرنا جن کے کلیات چارقسم پرمنقسم ہیں۔ کتاب اللہ،سنتِ رسول، اجماع اور قیاس‘‘۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110200110

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں