بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 ذو الحجة 1443ھ 07 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

ہاؤس فنانسنگ پروگرام کے تحت بینک کے توسط سے گھر خریدنا


سوال

حکومتِ پاکستان کی جانب سے ہاؤس فنانسنگ پروگرام کے تحت بینک کے توسط سےگھر لینا جائز ہے یا نہیں؟بینک کی طرف سے یہ طریقہ کار بتایا گیا ہے کہ گھر کی ٹوٹل رقم کےعلاوہ شروع کے پانچ سال تک5فیصد اور چھٹے سال سے لے کردسویں سال تک7فیصد اضافی رقم ادا کرنی ہوگی تکافل/رینٹ کی مد میں۔

حبیب بینک اسلامک کی جانب سے اس کو شرعی اصولوں کے مطابق جائزقرار دیا گیا ہےکہ جس گھر کی اصل رقم اور اضافی رقم پہلے سے مقرر کردی جائے اور پھر اس کی ادائیگی ماہانہ اقساط کی صورت میں کی جائےتو وہ سود کے زمرے میں نہیں آتی۔

برائے کرم اس مسئلہ میں ہماری رہنمائی فرمائیں تاکہ ہم غلط فیصلے سے محفوظ رہ سکیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں  بینک کے توسط سے گھر خریدنادرج ذیل شرعی قباحتوں کی بناپر ناجائز ہے  ۔

1۔پہلی قباحت یہ ہے کہ بینک سے خریدنے والے اور بینک کے درمیان معاہد ہ کے تحت  دو عقد ہوتے ہیں ، ایک بیع(خرید وفروخت )اور دوسرا اجارہ(کرایہ داری )کا عقدہوتاہے ، اور یہ طے پاتاہے  کہ اقساط میں سے اگر کو ئی قسط وقتِ مقررہ پر جمع  نہیں کرائی گئی  تو خریداربینک کی جانب سے مقررہ جرمانہ اداکرنے کا پابند ہوگا جوکہ شرعاً جائزنہیں ہے ۔

2۔دوسری قباحت یہ ہے  کہ بینک  سے قسطوں پر خریدتے وقت  دو عقد   بیک وقت  ہوتے ہیں ، ایک عقد بیع کا ہوتاہے جس کی بناپر قسطوں   کی  شکل میں  ادائیگی  خریدار پر واجب ہو تی ہے اور اسی کے ساتھ  ہی اجارے    کابھی معاہدہ ہوتاہے  جس کی بناپر  ہر ماہ  کر ائے کی مد میں بینک  خریدار سے کرایہ بھی وصول کرتاہے اور یہ دونوں عقد ایک ساتھ ہی کیے جا تے ہیں جو کہ ناجائز ہے ،یعنی معاہدے کے اندر یہ بات بھی شامل ہوتی ہے کہ جس دن گھر کی مالیت کے بقدر کرایہ پورا ہوجائے گا تواس کے بعد یہ گھر  بینک سےکرایہ پر لینے والے شخص کی ملکیت میں  آجائے گا،تواس طرح ایک ہی وقت میں دو معاملے پائے گئے،جو کہ شرعاً نا جائز ہے،کیونکہ شرعاً ایک معاملہ ختم ہونے سے پہلے دوسرا معاملہ نہیں کیا جاسکتا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس  سے منع فرمایا ہے۔

3۔تیسری خرابی یہ ہے کہ جوقیمت شروع میں بتائی جاتی ہے  آخر تک اس سے زیادہ رقم ادا کرنا لازم ہو تا ہے ”کائی بور“ کے ریٹ کی وجہ سے اصل قیمت میں کمی زیادتی  ہو تی ہےکہ اگر ڈالر کا ریٹ بڑھ جائے تو قیمت ملکی کرنسی میں بڑھ جاتی ہے حالانکہ سوداکرتے وقت جس قیمت پر سودا ہوتا ہے تو سودے کے بعد فروخت کنندہ کی طرف سے اس قیمت میں اضافہ کرنا جائز نہیں ہے۔

تاہم اگر بینک والےگھر  پر قبضہ کرنے کے بعد سائل پر اضافی رقم کے ساتھ،اس رقم کو متعین کرکےقسطوں میں فروخت کرتے ہیں اور تاخیر کی صورت میں کوئی اضافی رقم  بھی وصول نہیں کرتے اور بعد میں رقم میں  کسی بھی وجہ سے اضافہ بھی نہیں کرتے تو مذکورہ معاملہ شرعا درست ہوگا ۔

لیکن اگر قبضہ کے بغیر آگے فروخت کرتے ہیں یاتاخیر کی صورت میں جرمانہ وصول کرتےہیں یا قیمت میں بعد میں اضافہ کر دیتے ہیں یا بیع کے معاملہ میں اجارہ کو داخل کردیتےہیں ،تو ایسی صورت  میں جائز نہیں ہوگا ۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي هريرة قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ‌بيعتين ‌في ‌بيعة."

(سنن ترمذي، أبواب البيوع، ج:3، ص:525، ط:مطبعة مصطفي البابي)

مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:

"(المادة 245) :البيع مع ‌تأجيل ‌الثمن وتقسيطه صحيح."

(ألكتاب الأول، الباب الثالث، الفصل الثاني، ص:50، ط:نورمحمد كتب خانه)

البحر الرائق میں ہے:

"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير ‌سبب ‌شرعي."

(کتاب الحدود، فصل في التعزیر، ج:5، ص:44، ط:دار الکتاب الإسلامی)

ہدایہ  میں ہے:

"قال (ومن باع ثمرةلم يبد صلاحها أو قد بدا جاز البيع) ؛ لأنه مال متقوم، إما لكونه منتفعا به في الحال أو في الثاني، وقد قيل لا يجوز قبل أن يبدو صلاحها والأول أصح (وعلى المشتري قطعها في الحال) تفريغا لملك البائع، وهذاإذا اشتراها مطلقا أو بشرط القطع (وإن شرط تركها على النخيل فسد البيع) ؛ لأنه شرط لا يقتضيه العقد وهو شغل ملك الغير أو هو صفقة في صفقة وهو إعارة أو إجارة في بيع."

وفی فتح القدیر تحتہ:

"لأنه إن شرط بلا أجرة فشرط إعارة في البيع أو بأجرة فشرط إجارة فيه."

(كتاب البيوع، ج:6، ص:288، دارالفكر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وأما شرائط الصحة...ومنها أن لا يكون مؤقتا فإن أقته لم يصح ومنها أن يكون المبيع معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة فبيع المجهول جهالة تفضي إليها غير صحيح."

(كتاب البيوع، الباب الأول، ج:3، ص:3، ط:رشيديه)

وفیہ ایضاً:

"وإذا زاد في الثمن لا بد أن يقبل الآخر في المجلس حتى ولو لم يقبل وتفرقا بطلب، كذا في الخلاصة."

(کتاب البیوع، الباب السادس عشر، ج:3، ص:171، ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307101436

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں