بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1446ھ 16 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

Hotspot کے ذریعہ انٹرنیٹ کی سہولت دینا اور اس کی قیمت وصول کرنا


سوال

دیہات میں ایک آدمی کا PCOہے اور وہ Hotspotکے ذریعہ MBبیچتاہے ،مثلا کسی کو Wifi کا کوڈ بتا کر 500MBبیچتا ہے 1000 روپے پر،اب اس مشتری نے 300MBاستعمال  کیے اور چلاگیا  ،مشتری اور بائع دونوں کو پتہ نہیں ہے کہ 200MBتو رہ گئےہیں ،اس لیے کہ وہ سافٹ وئیر  ایسا ہے کہ Wifiمنقطع ہونے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ کتنے MBاستعمال ہوچکے ہیں اور بائع مشتری کو جانتا بھی نہیں ،اب بقیہ 200MBبائع استعمال کرسکتا ہے یا نہیں ؟اگر نہیں کرسکتا تو کیا کرے ؟اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

وضاحت :1000 روپے پر 500MB دئے جاتے ہیں ،مشتری 500MB سے زیادہ استعمال نہیں کرسکتا ،البتہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بسا اوقات کم استعمال کرکے چلاجاتاہے اور کچھMB باقی رہ جاتے ہیں۔ 

جواب

صورتِ  مسئولہ میں PCOوالے کا  Hotspotکے ذریعہ انٹرنیٹ کے استعمال کرنے کی سہولت فراہم کرنا اور اس کے عوض رقم لینا  شرعا درست ہے، البتہ انٹرنیٹ کی سہولت لینے والے لوگوں نے جتنے MB استعمال نہیں  کیے ،وہ  PCO والےکے  لیے ان لوگوں کی اجازت کے بغیرخود  استعمال کرنا یا کسی اور کو استعمال کے  لیے دینادرست نہیں ہے، اس  لیے اس انٹرنیٹ کی منفعت کا مالک وہ شخص ہوچکا ہے ، لہذا اگر متعلقہ شخص آجائے تو اس کو بتایا جائے ،پھر باہمی رضامندی سے یا تو قیمت واپس کردی جائے یا وہ شخص MBاستعمال کرلے یا PCO والے کو استعمال کرنے کی اجازت  دے دے۔

نیز آئندہ کے  لیے ایسی ترتیب بنالی جائے کہ  جب متعلقہ شخص اپنا کام پوراکرکے جانے لگےتو اسی وقت کنکشن منقطع کرکے دیکھ لیا جائے کہ اس نے  کتنے MBاستعمال کرلیے ہیں ،اگر کچھ MB باقی رہ گئے ہوں تو اس کو بتادیا جائےپھر باہمی رضامندی سے معاملہ حل کرلیا جائے، یعنی یاتو رقم اس شخص کو واپس کردی جائے یا اس سے اجازت لے کر وہ MBاستعمال کرلیےجائیں۔

اور اگر اسی وقت معلوم ہونا مشکل ہو تو  لوگوں سے فون نمبر لے لئے جائیں اورمعلوم ہونے کے بعد  اطلاع کردی جائے ۔ 

وفي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع :

"أما الأول: فهو ثبوت الملك في المنفعة للمستأجر، وثبوت الملك في الأجرة المسماة للآجر؛ لأنها عقد معاوضة إذ هي بيع المنفعة، والبيع عقد معاوضة، فيقتضي ثبوت الملك في العوضين."

(كتاب الإجارة،فصل فی حكم الإجارة،4/ 201،ط:دار الکتب العلمیۃ)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إن استأجره ليحمله إلى موضع كذا فحمله بعض الطريق ثم طالبه بالأجر بمقدار ما حمل فله ذلك وكان عليه أن يعطيه من الأجر حصته ولكنه يجبر على أن يحمل إلى المكان الذي شرط فإذا حمل يستوفي جميع الأجرة، ولو استأجر ليحمل له محمولا من مكان إلى مكان فحمل بعضه وطلب حصته من الأجر في ظاهر الرواية له أن يطالبه بالأجرة بمقدار ما حمل ويجبر على حمل الباقي ويعطي الباقي من الأجرة، هكذا في شرح الطحاوي."

(كتاب الإجارة،الباب الثاني متى تجب الأجرة وما يتعلق به من الملك وغيره،4/ 413،ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144511101186

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں