بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 صفر 1443ھ 19 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

ہندو کے رسم و رواج میں شامل ہونا


سوال

کیا ہندو کے رسم ورواج میں   شامل ہونا صحیح  ہے؟

جواب

غیر مسلموں کے مذہبی تہوار پر  ان کی  مجالس میں شرکت کرنا یا خود ان کی تقریب منعقد کرنا  یا انہیں مبارک باد دینا ، ہدایا دینا،  یہ  گویا ان سے محبت اور مودت کا  اظہار اور  ان کے مذہبی  شعار اور تہوار میں شریک ہونا  ہے، جوکہ شرعاً ممنوع اور ناجائز ہے۔

نیز حدیث شریف میں آتا ہے کہ   جو شخص کسی  جماعت یا قوم میں شامل ہو کر ان کا مجمع بڑھائے تو اس کا شمار اسی قوم میں سے ہوگا، لہٰذا  ہندؤوں کی  مذہبی رسومات اور محافل میں شریک ہونے سے احتراز کرنا ضروری ہے۔ البتہ ہندو یا کافر کے ہاں مذہبی تقریب نہ ہو، ویسے ہی خوشی وغیرہ کا موقع ہو، جیساکہ شادی کی تقریب، تو اس میں شرکت کی اجازت ہوگی، لیکن شادی وغیرہ کی وہ تقریب جس میں ان کی مذہبی رسومات ہوں اس میں بھی شرکت کی اجازت نہیں ہے۔

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

’’سوال: اگر کسی مسلمان  کے رشتہ دار ہندو کے گاؤں میں رہتے ہوں اور ہندو کے تہوار ہولی دیوالی وغیرہ پکوان، پوری، کچوری وغیرہ پکاتے ہیں، ان کا کھانا ہم لوگوں کو جائز ہے یا نہیں؟

جواب:جوکھانا کچوری وغیرہ ہندو کسی اپنے ملنے والے مسلمان کو دیں اس کا نہ لینا بہتر ہے، لیکن اگر کسی مصلحت سے لے لیا تو شرعاً اس کھانے کو حرام نہ کہا جائے گا‘‘۔

(ج:۱۸،ص:۳۴، ط:فاروقیہ)

قرآن کریم میں ہے:

﴿فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ﴾[الأنعام: 68]

أحكام القرآن للجصاص ط العلمية (3/ 3):

"قَالَ تَعَالَى: ﴿فَلا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾ يَعْنِي: بَعْدَمَا تَذْكُرُ نَهْيَ اللَّهِ تَعَالَى لَا تَقْعُدْ مَعَ الظَّالِمِينَ. وَذَلِكَ عُمُومٌ فِي النَّهْيِ عَنْ مُجَالَسَةِ سَائِرِ الظَّالِمِينَ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ وَأَهْلِ الْمِلَّةِ لِوُقُوعِ الِاسْمِ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا، وَذَلِكَ إذَا كَانَ فِي ثِقَةٍ مِنْ تَغْيِيرِهِ بِيَدِهِ أَوْ بِلِسَانِهِ بَعْدَ قِيَامِ الْحُجَّةِ عَلَى الظَّالِمِينَ بِقُبْحِ مَا هُمْ عَلَيْهِ، فَغَيْرُ جَائِزٍ لِأَحَدٍ مُجَالَسَتُهُمْ مَعَ تَرْكِ النَّكِيرِ سَوَاءٌ كَانُوا مُظْهِرِينَ فِي تِلْكَ الْحَالِ لِلظُّلْمِ وَالْقَبَائِحِ أَوَغَيْرَ مُظْهِرِينَ لَهُ؛ لِأَنَّ النَّهْيَ عَامٌّ عَنْ مُجَالَسَةِ الظَّالِمِينَ؛ لِأَنَّ فِي مُجَالَسَتِهِمْ مُخْتَارًا مَعَ تَرْكِ النَّكِيرِ دَلَالَةً عَلَى الرِّضَا بِفِعْلِهِمْ وَنَظِيرُهُ قَوْله تَعَالَى: ﴿لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرائيلَ﴾ [المائدة:78] الْآيَاتُ، وَقَدْ تَقَدَّمَ ذِكْرُ مَا رُوِيَ فِيهِ، وقَوْله تَعَالَى: ﴿وَلا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ﴾ [هود:113]".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144210200231

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں