بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

ہندؤوں کو دیوالی کی مبارک باد دینا اوران کی مٹھائی کھانے کا حکم


سوال

ہندؤں کو  دیوالی کی مبارک باد  دینی چاہیے یا نہیں؟ نیز یہ بھی راہ نمائی فرما دیں کہ ان کی طرف سے دیوالی کی خوشی میں بھیجی گئی مٹھائی کھانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

کسی مسلمان کے  لیے  ہندؤوں  کی ہولی، دیوالی یا ان کے کسی اور مذہبی تہوار کے موقع پر  اس کی  مبارک باد دیناجائز نہیں ہے۔ اوراگر ان کی تعظیم وتکریم اور ان کے ان تہواروں کی تحسین مقصود ہو تو کفر کا بھی اندیشہ ہے۔دیوالی کے  موقع پر ہندوؤں کی جانب سے دی گئی  مٹھائی وغیرہ اگر انہوں نے اپنے باطل معبودوں کے نام پر نہ چڑھائی ہو اور نہ ہی اس میں کسی حرام و ناپاک چیز کی آمیزش ہو تو اس کا استعمال جائز ہے، البتہ پھر بھی احتیاط بہترہے۔  مزید یہ کہ اگر غیر مسلم اپنے تہوارکے موقع پر کوئی چیز پیش کرے تو اسے تہوار کی مبارک باد ہرگز  نہ دی جائے۔

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

’’سوال: اگر کسی مسلمان کے رشتہ دار ہندو کے گاؤں میں رہتے ہوں اور ہندو کے تہوار ہولی دیوالی وغیرہ پکوان، پوری، کچوری وغیرہ پکاتے ہیں، ان کا کھانا ہم لوگوں کو جائز ہے یا نہیں؟

جواب:جوکھانا کچوری وغیرہ ہندو کسی اپنے ملنے والے مسلمان کو دیں، اس کا نہ لینا بہتر ہے، لیکن اگر کسی مصلحت سے لے لیا تو شرعاً اس کھانے کو حرام نہ کہا جائے گا‘‘۔

(ج:۱۸،ص:۳۴، ط:فاروقیہ)

البحر الرائق  میں ہے:

"قال - رحمه الله -: (والإعطاء باسم النيروز والمهرجان لايجوز) أي الهدايا باسم هذين اليومين حرام بل كفر، وقال أبو حفص الكبير - رحمه الله -: لو أن رجلاً عبد الله تعالى خمسين سنةً ثم جاء يوم النيروز وأهدى إلى بعض المشركين بيضةً يريد تعظيم ذلك اليوم فقد كفر وحبط عمله، وقال صاحب الجامع الأصغر: إذا أهدى يوم النيروز إلى مسلم آخر ولم يرد به تعظيم اليوم ولكن على ما اعتاده بعض الناس لايكفر، ولكن ينبغي له أن لايفعل ذلك في ذلك اليوم خاصةً ويفعله قبله أو بعده؛ لكي لايكون تشبيهاً بأولئك القوم، وقد قال صلى الله عليه وسلم: «من تشبه بقوم  فهو منهم». وقال في الجامع الأصغر: رجل اشترى يوم النيروز شيئاً يشتريه الكفرة منه وهو لم يكن يشتريه قبل ذلك إن أراد به تعظيم ذلك اليوم كما تعظمه المشركون كفر، وإن أراد الأكل والشرب والتنعم لايكفر".

(8 / 555،  مسائل متفرقہ فی الاکراہ، ط: دار الکتاب الاسلامی)

قرآن کریم میں ہے:

{ إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ} [البقرة: 173]

البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:

’’والنذر للمخلوق لا يجوز؛ لأنه عبادة والعبادة لا تكون للمخلوق.‘‘

(کتاب الصوم، باب الاعتکاف،ج:2،ص:321،ط: دارالکتاب الاسلامی بیروت) 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين  میں ہے:

’’واعلم أن النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام وما يؤخذ من الدراهم والشمع والزيت ونحوها إلى ضرائح الأولياء الكرام تقربا إليهم فهو بالإجماع باطل وحرام.  وفی الحاشیة : مطلب في النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام من شمع أو زيت أو نحوه (قوله: تقربا إليهم) كأن يقول يا سيدي فلان إن رد غائبي أو عوفي مريضي أو قضيت حاجتي فلك من الذهب أو الفضة أو من الطعام أو الشمع أو الزيت كذا بحر (قوله: باطل وحرام) لوجوه: منها أنه نذر لمخلوق والنذر للمخلوق لا يجوز لأنه عبادة والعبادة لا تكون لمخلوق. ومنها أن المنذور له ميت والميت لا يملك، ومنه أنه إن ظن أن الميت يتصرف في الأمور دون الله تعالى واعتقاده ذلك كفر ... ‘‘الخ 

(كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم و ما لا يفسده، قبيل باب الاعتكاف،(رد المحتار)ج: (2/ 439) ط: سعيد)

سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 173 کے ذیل میں حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

" یہاں ایک چوتھی صورت اور ہے جس کا تعلق حیوانات کے علاوہ دوسری چیزوں سے ہے، مثلاً مٹھائی، کھانا وغیرہ جن کو غیراللہ کے نام پر نذر (منت) کے طور سے ہندو لوگ بتوں پر اور جاہل مسلمان بزرگوں کے مزارات پر چڑھاتے ہیں، حضرات فقہاء نے اس کو بھی اشتراکِ علت  یعنی تقرب الی غیراللہ کی وجہ سے "ما اہل لغیر اللہ" کے حکم میں قرار دے کر حرام کہا ہے، اور اس کے کھانے پینے دوسروں کو کھلانے اور بیچنے خریدنے سب کو حرام کہا ہے"۔

 (معارف القرآن : 1 / 424، ط: مکتبہ معارف القرآن کراچی)

 امداد الفتاوی میں ہے:

’’ سوال: موسمِ گرما میں اکثر اہل ہنود جگہ جگہ پانی پلایا کرتے ہیں، اس کے متعلق ایسا سنا ہے کہ وہ پانی دیوتاؤں کے نام پر پلاتے ہیں، تو اس پانی کا مسلمان کو پینا جائز ہے نہیں؟ 

الجواب: اگر محقق ہوجاوے کہ دیوتاؤں کے نام کا ہے تو   "ما اهل لغیر اللّٰه"  کے حکم میں ہے، لہذا ناجائز ہے۔‘‘

( کتاب الحظر والإباحۃ، کھانے پینے کی حلال وحرام، مباح و مکروہ چیزوں کا بیان،  (ج:4/ ص:97) ط:ادارۃ المعارف کراچی) 

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144203201570

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں