بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 رمضان 1442ھ 06 مئی 2021 ء

دارالافتاء

 

ہندو کی طرف سے ملنے والی خیرات کا حکم


سوال

کیا  ہندو   کی خیرات کھا سکتے ہیں؟   ہمارے گاؤں میں  ہندوں  خیرات کرتے ہیں، تو کیا ہم کھا سکتے ہیں؟  مثلاً چاول،  دال وغیرہ!

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر ہندو  (غیرمسلم)  کی طرف سے دی جانے والی خیرات سے مراد ان کی دیوی دیوتاؤں کے نام  پر چڑھائی جانے والی چیزیں مراد  ہیں، تو ان کی طرف سے ملنے  والی مذکورہ  خیرات (چڑھاوا)  لینا اور اس کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر خیرا ت سے مراد ان کا چڑھاوا نہیں ہے، بلکہ ظاہری رواداری  کے بنا  پر کوئی چیز دیتے ہیں تو  لینے کی گنجائش ہے؛ تاہم احتیاط بہتر ہے۔ اور اگر ان کا مذبوحہ جانور (مرغی وغیرہ) ہو تو اس کا کھانا بہر صورت جائز نہیں ہے۔

أحكام القرآن للجصاص میں ہے:

" { إنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللّٰهِ} وَلَا خِلَافَ بَيْن الْمُسْلِمِينَ أَنَّ الْمُرَادَ بِهِ الذَّبِيحَةُ إذَا أُهِلَّ بِهَا لِغَيْرِ اللَّهِ عِنْدَ الذَّبْحِ ، فَمِنْ النَّاسِ مَنْ يَزْعُمُ أَنَّ الْمُرَادَ بِذَلِكَ ذَبَائِحُ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ الَّذِينَ كَانُوا يَذْبَحُونَ لِأَوْثَانِهِمْ ؛ كَقَوْلِهِ تَعَالَى : { وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ } وَأَجَازُوا ذَبِيحَةَ النَّصْرَانِيِّ إذَا سَمَّى عَلَيْهَا بِاسْمِ الْمَسِيحِ ، وَهُوَ مَذْهَبُ عَطَاءٍ وَمَكْحُولٍ وَالْحَسَنِ وَالشَّعْبِيِّ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَقَالُوا : " إنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ أَبَاحَ أَكْلَ ذَبَائِحِهِمْ مَعَ عِلْمِهِ بِأَنَّهُمْ يُهِلُّونَ بِاسْمِ الْمَسِيحِ عَلَى ذَبَائِحِهِمْ " .

وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ وَأَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ وَزُفَرُ وَمَالِكٌ وَالشَّافِعِيُّ : " لَا تُؤْكَلُ ذَبَائِحُهُمْ إذَا سَمَّوْا عَلَيْهَا بِاسْمِ الْمَسِيحِ " .

وَظَاهِرُ قَوْله تَعَالَى : { وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللّٰهِ } يُوجِبُ تَحْرِيمَهَا إذَا سُمِّيَ عَلَيْهَا بِاسْمٍ غَيْرِ اللَّهِ ؛ لِأَنَّ الْإِهْلَالَ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ هُوَ إظْهَارُ غَيْرِ اسْمِ اللَّهِ ، وَلَمْ تُفَرِّقْ الْآيَةُ بَيْنَ تَسْمِيَةِ الْمَسِيحِ وَبَيْنَ تَسْمِيَةِ غَيْرِهِ بَعْدَ أَنْ يَكُونَ الْإِهْلَالُ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ .

وَقَوْلُهُ فِي آيَةٍ أُخْرَى : { وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ } وَعَادَةُ الْعَرَبِ فِي الذَّبَائِحِ لِلْأَوْثَانِ غَيْرُ مَانِعٍ اعْتِبَارَ عُمُومِ الْآيَةِ فِيمَا اقْتَضَاهُ مِنْ تَحْرِيمِ مَا سُمِّيَ عَلَيْهِ غَيْرُ اللَّهِ تَعَالَى ."

(بَابُ تَحْرِيم مَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ ، ج:1، ص:314، ط:دارالكتب العلمية)

فقط والله  اعلم 


فتوی نمبر : 144206200368

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں