بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

شرکیہ اعمال پر مشتمل یوگا کا حکم


سوال

 ہندوستان کے  اسکولوں میں یوگا کو لازم قرار دے دیا ہے،یوگا میں کئی چیزیں ایسی ہیں جو شرک میں شمار ہو جاتی ہیں،مثلاً:سورج کی پوجا،غیر مسلموں کے پچھلے بزرگوں کی طرح بیٹھنا،اور یوگا کے کئی عقیدے  ہیں جو مسلمان نہیں مان سکتا،  پاکستان کے ایک مفتی صاحب کہتے ہیں:  یوگا جائز ہے،  وہ ایک ورزش کی طرح ہے۔ میرے خیال میں مفتی  صاحب پاکستان  کے لحاظ سے یوگا کو ورزش بتا رہے ہوں گے ،ہندوستان میں جو یوگا کو لازم قرار دیا ہے اس پر کیا فتویٰ ہے؟  کیا کرنا چاہیے؟ ایسی صورت میں اسکول چھوڑوا رہے ہیں ؟ماں باپ اسکول نہیں چھوڑا رہے تو ان کو کس طرح سمجھایا جائے؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں  ہندوستان  کے اسکولوں میں کس قسم کا یوگا لازم ہے، اس بارے میں ہمیں علم نہیں ہے، بہتر تھا کہ  آپ  ہندوستان کے کسی مستند دینی ادارے  (دار العلوم دیوبند) سے راہ نمائی لے لیتے، بہرحال آپ نے سوال میں جو صورتِ حال  لکھی ہے، اس کے مطابق  یوگا  میں اگر واقعی  شرکیہ افعال ہیں تو اس میں مسلمان بچوں کا اس میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے،  ان کے والدین پر لازم ہے  کہ اپنے بچوں کو اس قسم کے  یوگا  میں شرکت کرنے نہ دیں،  مسلمان بچوں کے والدین پر لازم ہے  کہ اسکول کے ذمہ داران  سے یوگا میں اپنے بچوں کی شرکت نہ کرنے کے متعلق بات کریں،اگر اسکول کے ذمہ داران ان کی  بات ماننے کو تیار نہ ہوں  توبچوں کے  والدین  پر لازم ہے کہ اپنے بچوں کو ایسے اسکولوں میں جانے سے روک دیں ، جہاں یو گامیں سورج کی پوجا اور دیگر شرکیہ اعمال کرتے ہیں مسلمان بچوں کے والدین اگر اپنے بچوں کو ایسے اسکولوں سے نہیں روکیں گے تو وہ سخت گناہ گار ہوں گے،  بلکہ  ان مسلمان  طلبہ کے  ایمان ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ومن يرضى بكفر نفسه فقد كفر، ومن يرضى بكفر غيره فقد اختلف فيه المشايخ رحمهم الله تعالى في كتاب التخيير في كلمات الكفر إن رضي بكفر غيره ليعذب على الخلود لايكفر، وإن رضي بكفره ليقول في الله ما لا يليق بصفاته يكفر، وعليه الفتوى كذا في التتارخانية."

(كتاب السير ،الباب التاسع في احكام المرتدين ،مطلب في موجبات الكفر ،ج:2،ص:257،ط:دارالفكر بيروت)

امداد الاحکام میں ہے :

"ان امور میں تشبہ جو کفار کا مذہبی شعار یا دینی رسم اور قومی رواج ہے ،جیسے زنار وغیرہ پہننا ،یا مجوس کی خاص ٹوپی جو ان کے مذہب کا شعار ہے اس میں تشبہ حرام بلکہ بعض صورتوں میں کفر ہے ۔"

(کتاب :مایتعلق بالحدیث والسنہ ،ج:1،ص:287،ط:دارالعلوم کراچی )

البحرا لرائق میں ہے :

"وفي البدائع ركن الردة إجراء ‌كلمة ‌الكفر على اللسان والعياذ بالله بعد وجود الإيمان وشرائط صحتها العقل فلا تصح ردة المجنون ولا الصبي الذي لا يعقل.....والبلوغ ليس بشرط لصحتها من الصبي عندهما خلافا لأبي يوسف....فيكفر إذا وصف الله تعالى بما لا يليق به أو سخر باسم من أسمائه أو بأمر من أوامره وأنكر وعده أو وعيده أو جعل له شريكا أو ولدا أو زوجة أو نسبه إلى الجهل أو العجز أو النقص واختلفوا في قوله فلان في عيني كاليهودي في عين الله فكفره الجمهور وقيل لا إن عنى به استقباح فعله وقيل يكفر إن عنى الجارحة لا القدرة والأصح مذهب المتقدمين في المتشابه كاليد واختلفوا في جواز أن يقال بين يدي الله ويكفر بقول يجوز أن يفعل الله فعلا لا حكمة فيه وبإثبات المكان لله تعالى فإن قال الله في السماء فإن قصد حكاية ما جاء في ظاهر الأخبار لا يكفر وإن أراد المكان كفر وإن لم يكن له نية كفر عند الأكثر وهو الأصح وعليه الفتوى ويكفر إن اعتقد أن الله تعالى يرضى بالكفر وبقوله لو أنصفني الله تعالى يوم القيامة انتصفت منك أو إن قضى الله يوم."

(كتاب السير ،باب احكام المرتدين ،ج:5،ص:129،ط:دارالكتاب الاسلامي )

وفیہ ایضاً :

"والحاصل أن من تكلم بكلمة الكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده كما صرح به قاضي خان في فتاويه ومن تكلم بها مخطئا أو مكرها لا يكفر عند الكل ومن تكلم بها عالما عامدا كفر عند الكل ومن تكلم بها اختيارا جاهلا بأنها كفر ففيه اختلاف والذي تحرر أنه لا يفتى بتكفير مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره اختلاف ولو رواية ضعيفة."

(كتاب السير ،باب احكام المرتدين ،ج:5،ص:134-135،ط:دارالكتاب الاسلامي )

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144312100579

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں