بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1441ھ- 04 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

حالتِ حیض میں عمرہ چھوڑ آئے تو کیا کرے؟


سوال

 اگر ایک عورت پاکستان سے مکہ معظمہ جاتی ہے اور عمرہ ادا کرتی ہے، پھر مدینہ جاتی ہے اور مدینہ سے واپسی پر حیض کی حالت میں مکہ داخل ہوتی ہے اور حیض کی وجہ سے احرام نہیں باندھاگیا، یہ خیال تھا کہ جب پاکی حاصل ہوجائے تو قریبی میقات جاکراحرام باندھ لے گی، اورعمرہ کرلی گی، لیکن حیض سےپاک نہ ہوئی اور بوجہ مجبوری بغیرعمرہ کیے واپس لوٹ آئی َتو کیامذکورہ عورت پردم یاقضا لازم ہے، حال آں کہ پاکستان سے جاتے ہوئے اس نے عمرہ کیا، لیکن مدینہ سے واپسی پرعمرہ نہیں کیا حیض کی وجہ سے؟

جواب

بصورتِ  مسئولہ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ جاتے ہوئے میقات سے پہلے احرام باندھنا ضروری ہے، مذکورہ عورت کے لیے حکم یہ تھا کہ وہ مدینہ منورہ میں میقات سے پہلے عمرے کے احرام کی نیت کرتے ہوئے تلبیہ پڑھ  لیتی؛ عورت حالتِ حیض میں بھی احرام باندھ سکتی ہے، حالتِ حیض میں احرام باندھنے کے بعد عورت  کے لیے تمام افعال کرنا جائز ہیں، صرف طواف کرنا اور نماز پڑھنا منع ہے، اس لیے احرام کی نیت کرتے وقت جو دو رکعت نماز پڑھی جاتی ہے, وہ نہ پڑھتی، بلکہ غسل یا وضو کر کے قبلہ رخ بیٹھ کر احرام کی نیت کر کے تلبیہ پڑھ لیتی۔مکہ مکرمہ پہنچ جانے کے بعد پاک ہونے کا انتظار کرتی اور پاک ہونے کے بعد غسل کر کے عمرہ کرتی، پاک ہوجانے کے بعد عمرہ کرلینے سے عمرہ ادا ہوجاتا اور کوئی دم بھی لازم نہ ہوتا۔

صورتِ  مسئولہ میں جب اس خاتون نے احرام ہی نہیں باندھا تو اب جب وہ اس حالت میں واپس آگئی تو اس پر بلا احرام کے حدود حرم میں داخلے کی وجہ سے ایک دم لازم ہے جو کہ مکہ مکرمہ بھجوا کر ادا کرلے، اور توبہ و استغفار بھی کرے۔

إعلاء السنن (۱۰ ؍ ۳۱۷ ):

"عن عائشة عن النبي ﷺ قال : الحائض تقضي المناسک کلها إلا الطواف بالبیت. رواه أحمد و ابن أبي شیبة".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 290):

""ثم ذكر أحكامه بـ (قوله :يمنع صلاة)  مطلقاً، ولو سجدة شكر، (وصوماً) وجماعاً ... (و) يمنع حل (دخول مسجد و) حل (الطواف) ولو بعد دخولها المسجد وشروعها فيه". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144107201277

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں