بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شوال 1445ھ 24 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

حیض عادت سے بڑھ جانے کی صورت میں روزہ کاحکم


سوال

اگر عورت کے  حیض ایام حیض سے بڑھ جائیں تو کیااس کےلئے روزہ رکھنا ضروری ہے یا نہیں؟۔ راہ  نمائی فرمائیں!

جواب

حیض  کا دورانیہ اگر  ایامِ عادت سے بڑھ جائے تو اگر  بڑھنے والاخون دس دن کے اندر اندر رک گیا تو یہ سمجھا جائے گا کہ اس عورت کی ماہواری کی عادت تبدیل ہوگئی ہے اور یہ تمام دن  ماہواری کے شمار ہوں گے، اس صورت میں ان تمام دنوں  کے روزوں کی بعد میں قضا کرنی ہوگی ،  اگر بڑھنے والا  خون دس دن سے بھی آگے بڑھ گیا تو پھر پرانی عادت  کے ایام   ماہواری  کےشمار ہوں گے اور بقیہ ایام استحاضہ کے شمار ہوں گے، ان دنوں کے روزے رکھنا ضروری ہوں گے۔

البحرالرائق میں ہے:

"(قوله: يمنع صلاة وصوما) شروع في بيان أحكامه فذكر بعضها ولا بأس ببيانها، فنقول: إن الحيض يتعلق به أحكام:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخامس: يحرم الصوم."

(کتاب الطھارۃ،باب الحیض،ج:1، ص:204، ط:دار الکتاب الاسلامی)

فتاوی شامی میں ہے:

"(يمنع صلاة) مطلقا ولو سجدة شكر (وصوما) وجماعا (وتقضيه) لزوما دونها للحرج."

(كتاب الطهارة،باب الحيض،ج:1،ص:291،ط:سعيد)

فتاوی شامی میں    ہے:

"(والناقص) عن أقله (والزائد) على أكثره أو أكثر النفاس أو على العادة وجاوز أكثرهما. (وما تراه) صغيرة دون تسع على المعتمد وآيسة على ظاهر المذهب (حامل) ولو قبل خروج أكثر الولد (استحاضة.)

(قوله والزائد على أكثره) أي في حق المبتدأة، أما المعتادة فما زاد على عادتها ويجاوز العشرة في الحيض والأربعين في النفاس يكون استحاضة كما أشار إليه بقوله أو على العادة إلخ. أما إذا لم يتجاوز الأكثر فيهما، فهو انتقال للعادة فيهما، فيكون حيضا ونفاسا رحمتي."

(کتاب الطھارۃ،باب الحیض،ج:1، ص:285،ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509101693

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں