بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 محرم 1446ھ 21 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

حیلۂ تملیک کی شرعی حیثیت


سوال

بندہ ملک ہندوستان کے صوبہ گجرات میں مقیم ہے اور ملک کے حالات کے پیش نظر ایک سکول قائم کرنا چاہتا ہے تو کیا سکول کی زمین اور تعمیر کے لئے اور پھر نظام چلانے کے لیے زکوۃ وصول کرکے حیلہ کرکے استعمال کر سکتا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ حیلۂ تملیک کرنے کی شریعت میں  انتہائی مجبوری کی صورت میں اجازت دی گئی ہے،بلا ضرورت حیلۂ تملیک کرنا اور اسی طرح حیلۂ اسقاط کرنا مستحقین زکوۃ کی حق تلفی کی وجہ سے مکروہِ تحریمی ہے،حیلۂ تملیک کرنے کی شریعت میں چندخاص،خاص  صور توں میں اجازت دی گئی ہے،من جملہ ان میں سے یہ بھی ہے کہ یا تو کوئی شخص غریب ہو اور زکوۃ کا مستحق ہو لیکن شرعاً اس کے لیے زکوۃ لینا سید یا ہاشمی ہونے کی وجہ سے جائز نہ ہو  تو اس کو حیلۂ تملیک کر اکے زکوۃ دینے کی اجازت ہے یا پھر اس رقم کی عام مسلمانوں کو مسجد یا عوامی رفاہی کاموں مثلاً:پُل،کنواں وغیرہ میں شدید ضرورت ہو تو وہاں بھی حیلۂ تملیک کرنے کی اجازت ہے،اسی طرح ان صورتوں میں بھی جائز ہےجہاں تملیک کرانے کے بعد زکوۃ کی رقم اگر چہ مستحقِ زکوۃ کے ہاتھ میں نہ آتی ہو لیکن اس کا مستحقینِ زکوۃ پر خرچ ہونا یقینی ہو جیسے کہ مدارس وغیرہ میں طلبہ کی خیر خواہی میں اگرایسا کیا جائے تو اس کی بھی اجازت ہے۔

صورت مسئولہ میں اگر وہ تعلیمی ادارہ صرف اورصرف مستحق طلبہ کےلیے بنایا جارہا ہے اور وہاں پر ان کو بلا معاوضہ تعلیم دلائی جانے کی نیت ہےاور سائل کا اس کارِ خیر کو سر انجام دینے کے لیے آمدنی کا کوئی اور ذریعہ بھی نہیں ہے اوراسی طرح  کوئی  دوسرا تعلیمی ادارہ بھی  اس جگہ پرموجود نہیں ہے کہ جہاں پر غرباء اور مستحق طلبہ کی تعلیمی ضروریات پوری ہو جاتی ہوں تب تو سائل کو ایسا کرنے کی اجازت ہے،بصورت دیگرچوں کہ  اس میں مستحقینِ زکوۃ  کی حق تلفی ہے اس لیےایسا کرنا مکروہِ تحریمی ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وحيلة التكفين بها التصدق على فقير ثم هو يكفن فيكون الثواب لهما وكذا في تعمير المسجد...وأخرج السيوطي في الجامع الصغير لو مرت الصدقة على يدي مائة لكان لهم من الأجر مثل أجر المبتدئ من غير أن ينقص من أجره شيء."

(ص:271،ج:2،کتاب الزکوۃ،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"وإذا فعله حيلة لدفع الوجوب... قال أبو يوسف لا يكره؛ لأنه امتناع عن الوجوب لا إبطال حق الغير...وقال محمد: يكره، واختاره الشيخ حميد الدين الضرير؛ لأن فيه إضرارا بالفقراء وإبطال حقهم مآلا."

(ص:284،ج:2،کتاب الزکوۃ،باب زکوۃ الغنم،ط:سعید)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"إذا أراد أن يكفن ميتا عن زكاة ماله لا يجوز والحيلة فيه أن يتصدق بها على فقير من أهل الميت ، ثم هو يكفن به الميت فيكون له ثواب الصدقة ولأهل الميت ثواب التكفين، وكذلك في جميع أبواب البر التي لا يقع بها التمليك كعمارة المساجد وبناء القناطر والرباطات لا يجوز صرف الزكاة إلى هذه الوجوه."

(ص:392،ج:6،کتاب الحیل،الفصل الثالث في مسائل الزكاة،ط:دار الفکر)

وفیہ ایضاً:

"كره بعض أصحابنا  رحمهم الله تعالى  الحيلة في إسقاط الزكاة...ومشايخنا رحمهم الله تعالى أخذوا بقول محمد  رحمه الله تعالى  دفعا للضرر عن الفقراء."

(ص:391،ج:6،کتاب الحیل،الفصل الثالث في مسائل الزكاة،ط:دار الفکر)

البحر الرائق میں ہے:

"قوله لا إلى ذمي أي لا تدفع إلى ذمي...وبناء مسجد وتكفين ميت وقضاء دينه وشراء قن يعتق...وعدم الجواز لانعدام التمليك الذي هو الركن في الأربعة...والحيلة في الجواز في هذه الأربعة أن يتصدق بمقدار زكاته على فقير ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه فيكون لصاحب المال ثواب الزكاة وللفقير ثواب هذه القرب."

(ص:261،ج:2،کتاب الزکوۃ،باب مصرف الزکوۃ،ط:دار الکتاب)

وفیہ ایضاً:

"هل يكون للمؤذن أن يأخذ ذلك العشر الذي أباح ‌السلطان للرباط قال الفقيه أبو جعفر لو كان المؤذن محتاجا يطيب له ولا ينبغي له أن يصرف ذلك العشر إلى عمارة الرباط وإنما يصرف إلى الفقراء لا غير ولو صرف إلى المحتاجين ثم إنهم أنفقوا في عمارة الرباط جاز ويكون ذلك حسنا."

(ص:275،ج:5،کتاب الوقف،فصل اختص المسجد بأحكام تخالف أحكام مطلق الوقف،ط:دار الکتاب)

کفایت المفتی میں ایک سوال کے جواب میں ہے:

" سخت ضرورت کی حالت میں اس طرح حیلہ کر کے زکوۃ کی رقم مسجد میں خرچ کرنا جائز ہے کہ کسی مستحق زکوۃ کو وہ رقم بطور تملیک دیدی جائے اور وہ قبضہ کر کے اپنی طرف سے مسجد میں لگاوے یا کسی اور کام میں خرچ کر دے جس میں براہِ راست زکوۃ خرچ نہ کی جا سکتی ہو ۔"

(ص:305،ج:4،کتاب الزکوۃ والصدقات،باب: تملیک و حیلۂ تملیک،ط:دار الاشاعت)

وفیہ ایضاً:

" زکوة کاروپیہ غریب و مسکین طالب علموں کے کھانے یا کپڑے اور سامان تعلیم پربطور تملیک طلبہ کو دینے کے لئے خرچ کیا جا سکتا ہے مدرسین و ملازمین کی تنخواہوں یا تعمیرات میں خرچ نہیں ہو سکتا اگر اور کوئی آمدنی نہ ہو اور مدرسہ بند ہو جانے کا خطرہ ہو تو ایسے وقت زکوۃ  کا روپیہ حیلہ شرعیہ کے ساتھ خرچ کیا جا سکتا ہے یعنی کسی مستحق کو تملیک کر دی جائے اور وہ اپنی طرف سے مدرت کو دید نے تو جائز ہو گا ۔ فقط محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ۔"

(ص:304،ج:4،کتاب الزکوۃ والصدقات،باب: تملیک و حیلۂ تملیک،ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144409100543

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں