بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1445ھ 21 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

حیلہ اسقاط کی شرعی حیثیت


سوال

ہمارے علاقہ کے دیوبندی مسلک کے علمائے کرام کے درمیان حیلہ اسقاط کے بارے میں اختلاف واقع ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے عوام میں بھی انتشار پیدا ہو گیا ہے، برائے مہربانی مفصل و مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

 واضح رہے کہ  " حیلۂ اسقاط"  بعض فقہاء نے ایسے شخص کے لیے تجویز فرمایا تھا جس کی کچھ نماز یں اور روزے وغیرہ اتفاقی طور پر فوت ہوگئے ہوں، پھر  اسے قضا کرنے کا موقع نہ ملا ہو اور اس نے  موت کے وقت فدیہ کی وصیت تو  کی ہو ، لیکن مرحوم نے اتنا ترکہ نہ چھوڑا ہو کہ  جس کے ایک تہائی سے اس کی  تمام فوت شدہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کیا جاسکے، البتہ اگر مرحوم  نےبذاتِ  خود   اس بات کی وصیت    کی ہو کہ  " حیلۂ اسقاط" کے ذریعے اس کے ذمے واجب نمازیں اور روزے وغیرہ کا فدیہ ادا کیا جائے تو  ایسی وصیت  ناجائز  ہے۔

 پہلی صورت میں  اگر ورثاء  اصحاب استطاعت ہوں تو  اپنے مال سے مرحوم کی نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کردیں، تاہم اگر ورثاء  کے پاس بھی گنجائش نہ ہو تو فقہا ء نے مذکورہ  حیلہ اختیار کر نے کی گنجائش ذکر کی ہے، اور اس کی جائز صورت یہ ہے کہ:  ورثاء  فدیہ کی نیت سے کچھ رقم کسی غریب و  نادار مستحقِ زکوۃ  کو  دے  کر اس کو  اس رقم کا اس طرح مالک بنادیں کہ اگر وہ مستحق رقم واپس کرنے کے بجائے خود استعمال کرلے تو ورثاء کو  کوئی اعتراض نہ ہو  اور وہ مستحق شخص  بھی یہ سمجھتا  ہو کہ اگر میں یہ رقم مرحوم کے ورثاء  کو  واپس نہ کروں تو  انہیں واپس لینے کا اختیار نہیں ہے، پھر وہ مستحق کسی قسم کے  دباؤ کے بغیر اپنی خوشی سے وہ رقم ورثاء  کو واپس کردے،  اور پھر ورثاء  اسی مستحق کو یا زیادہ بہتر یہ ہے کہ  کسی اور مستحق کو اسی طرح مذکورہ طریقے کے مطابق وہ رقم دے دیں اور وہ بھی اپنی خوش دلی سے  انہیں وہ رقم  واپس کردے، اس طرح بار بار  ورثاء  یہ رقم کسی مستحق کو  دیتے رہیں اور وہ اپنی خوشی و مرضی سے واپس کرتا  رہے، یہاں تک کہ مرحو م کی قضا  نمازوں و روزوں کے  فدیہ کی مقدار ادا ہو جائے تو اس طرح  مرحوم کا تمام فدیہ ادا ہوجائے گا اور اب وہ رقم سب سے آخر میں جس نادار ومستحق شخص کو ملے گی، وہی اس رقم کا مالک ہوگا اور اسے ہر طرح اس رقم کو خرچ کرنے کا اختیار ہوگا ، اس پر رقم کی واپسی کے لیے کسی قسم کا دباؤ ڈالنا درست نہیں ، نیز آخر میں ورثاء  کا رقم کو آپس میں تقسیم کرنا  ناجائز ہے ، اسی طرح  کسی مال دار اور غیر مسکین کا اس رقم کو لینا جائز نہیں۔

واضح رہے کہ فقہاءنے  اس حیلہ   کی اجازت    مذکورہ بالا شرائط کے   ساتھ  صرف ایسے شخص کے لیے دی ہے  جس کے ترکہ سے اس کا فدیہ ادا نہ ہو رہا ہو، لیکن آج کل بعض علاقوں میں اسے معمول بنا دیا گیا ہے، اور جو  آداب و شرائط  اس حیلے کے لیے لازمی ہیں ان کی بھی رعایت نہیں رکھی جاتی، لہذا  مروجہ حیلہ اسقاط ناجائز ہے۔

مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب ؒ فرماتے ہیں:

" الغرض اس حیلہ کی ابتدائی بنیاد ممکن ہے کہ کچھ صحیح اور قواعد شرعیہ کے مطابق ہو، لیکن جس طرح کا رواج اور التزام آج کل چل گیا ہے، وہ بلا شبہ ناجائز اور بہت سے مفاسد پر مشتمل، قابلِ ترک ہے۔ چند مفاسد اجمالی طور پر لکھے جاتے ہیں:

1۔ بہت مواقع میں اس کے لئے جوقر آن مجید اور نقد رکھا جا تا ہے، وہ میت کے متروکہ مال میں سے ہوتا ہے ، اور اس کے حقدار وارث بعض موجود نہیں ہوتے یا نابالغ ہوتے ہیں، تو ان کے مشترکہ سرمایہ کو بغیر ان کی اجازت کے اس کام میں استعمال کرنا حرام ہے۔حدیث میں ہے’’ لايحل مال امرء مسلم الا بطيب نفس منہ‘‘۔اور نابالغ تو اگر اجازت بھی دے دے تو وہ شرعاً نامعتبر ہے۔ اور ولی نابالغ کو ایسے تبرعات میں اس کی طرف سے اجازت دینے کا اختیار نہیں، بلکہ ایسے کام میں اس مال کا خرچ کرنا حرام ہے۔

2۔ اگر بالفرض مال مشترک نہ ہو، یا سب وارث بالغ ہوں ، اور سب سے اجازت بھی لی جاوے، تو تجر بہ شاہد ہے کہ ایسے حالات میں یہ معلوم کرنا آسان نہیں ہوتا کہ ان سب نے بطیبِ خاطر اجازت دی ہے، یا برادری اور کنبہ کے طعنوں کے خوف سے اجازت دی ہے ۔ اور اس قسم کی اجازت حسب تصریح حدیث مذکور کالعدم ہے ۔

 3۔  اور اگر بالفرض یہ سب باتیں بھی نہ ہوں ، سب بالغ ورثاء نے بالکل خوش دلی کے ساتھ اجازت دے دی ہو، یا کسی ایک ہی شخص وارث یا غیر وارث نے اپنی ملک خاص سے اس کا انتظام کیا ہے، تو مفاسد ذیل سے وہ بھی خالی نہیں ۔ مثلاً اس حیلہ کی فقہی  صورت یہ ہوسکتی ہے کہ جس شخص کو اول یہ قرآن اور نقد دیا جاتا ہے، اس کی ملک کر دیا جائے ، اور پوری وضاحت سے اس کو بتلا دیا جائے کہ اب تم مالک و مختار ہو، جو چاہو کرو۔ پھر وہ اپنی خوشی سے بلاکسی رسمی دباؤ یا لحاظ ومروت کے میت کی طرف سے کسی دوسرے شخص کو اسی طرح دےدے، اور مالک بنادے، اور پھر وہ شخص اسی طرح کسی تیسرے چوتھے کو دے دے۔ لیکن مروجہ رسم میں اس کا کوئی لحاظ نہیں ہوتا ۔ اول تو جس کو دیا جاتا ہے، نہ دینے والا یہ سمجھتا ہے کہ اس کی ملک ہو گیا، اور وہ اس میں مختار ہے،  نہ لینے والے کو اس کا کوئی خطرہ پیدا ہوتا ہے ، جس کی کھلی علامت یہ ہے کہ اگر شخص اس وقت یہ  نقد لے کر چل دے، اور دوسرے کو نہ دے تو دینے والے حضرات ہرگز اس کو برداشت نہ کریں۔اور ظاہر ہے کہ اس صورت میں تملیک صحیح نہیں ہوتی ، اور بدونِ تملیک کے کوئی قضا   یا کفارہ یا فدیہ معاف نہیں ہوتا۔اس لیے یہ حرکت بے کار ہو جاتی ہے۔

4۔ مذکورہ صورت میں یہ بھی ضروری ہے کہ جس شخص کو مالک بنایا جائے ، وہ مصرفِ صدقہ ہو، صاحبِ نصاب نہ ہو ۔ مگر عام طور پر اس کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جا تا عمومًا ائمہ مساجد جو صاحب نصاب ہوتے ہیں، انہیں کے ذریعے یہ کام کیا جا تا ہے ، اس لیے بھی یہ سارا کاروبارلغووغلط ہو جا تا ہے ، میت کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔

5۔ اور بالفرض یہ آخری شخص اس کی تقسیم اور حصے بخرے لگانے پر آمادہ بھی ہو جائے ۔ اور فرض کرو کہ اس میں دباؤ سے نہیں دل سے راضی ہو جائے تو پھر بھی اس طرحکے حیلہ کا ہرمیت کے لیے التزام کرنا ، اور جیسے تجہیز و تکفین جیسے واجبات شرعیہ ہیں، اس طرح اسی درجہ میں اس کو اعتقاداً ضروری سمجھنا، یا عملاً ضروری کے درجہ میں التزام کرنا ، یہی احداث فی الدین ہے۔ جس کو اصطلاح ِشریعت میں بدعت کہتے ہیں ۔اور جو اپنی معنوی حیثیت سے شریعت میں ترمیم واضافہ ہے۔ نعوذ باللہ۔

نیز اس حیلہ کے التزام سے عوام الناس اور جہلاء کی یہ جرات بھی بڑھ سکتی ہے کہ تمام عمر بھی نہ نماز پڑھیں ، نہ روزہ رکھیں، نہ حج  کریں، نہ زکوۃ دیں، مرنے کے بعد چند پیسوں کے خرچ سے یہ سارے مفاد حاصل ہو جائیں گے، جو سارے دین کی بنیادمنہدم کر دینے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالی ہم سب مسلمانوں کو دین کے صحیح راستہ پر چلنے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کی توفیق عطاء فرمائے ۔

مذکور الصدرا جمالی مفاسد کو دیکھ کر بھی یہ فیصلہ کر لینا کسی مسلمان کے لیے دشوار نہیں کہ یہ حیلے حوالے اور اس کی مروجہ رسوم سب ناواقفیت پر مبنی ہیں ،میت کو اس سے کوئی فائدہ نہیں،اور کرنے والے بہت سے گناہوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔" (مع الاختصار)

(حیلۂ اسقاط کی شرعی حیثیت، جواہر الفقہ، ج:1، ص: 560، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی)

"ولو لم يترك مالا يستقرض وارثه نصف صاع مثلا ويدفعه لفقير ثم يدفعه الفقير للوارث ثم وثم حتى يتم.

(قوله ولو لم يترك مالا إلخ) أي أصلا أو كان ما أوصى به لا يفي. زاد في الإمداد: أو لم يوص بشيء وأراد الولي التبرع إلخ وأشار بالتبرع إلى أن ذلك ليس بواجب على الولي ونص عليه في تبيين المحارم فقال: لا يجب على الولي فعل الدور وإن أوصى به الميت لأنها وصية بالتبرع، والواجب على الميت أن يوصي بما يفي بما عليه إن لم يضق الثلث عنه، فإن أوصى بأقل وأمر بالدور وترك بقية الثلث للورثة أو تبرع به لغيرهم فقد أثم بترك ما وجب عليه. اه."

(كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ج:2، ص:73، ط: ايچ ايم سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308101665

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں